فیصلہ

وفاقی حکومت کا آٹو سیکٹر میں جامع اصلاحات متعارف کرانے کا فیصلہ

اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل)وفاقی حکومت نے آٹو سیکٹر میں جامع اصلاحات متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت درآمدی گاڑیوں پر عائد اضافی کسٹمز اور ریگولیٹری ڈیوٹیز کو مرحلہ وار ختم کیا جائے گا ۔

ذرائع کے مطابق نئی آٹو پالیسی یکم جولائی 2026 سے نافذ کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں جبکہ اس کے خدوخال کو حتمی شکل دینے کیلئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مشاورت جاری ہے ۔

حکومتی منصوبے کے تحت مالی سال 2027 سے اضافی ڈیوٹیز میں ہر سال 10 فیصد کمی کی جائے گی اور آئندہ چار برسوں میں انہیں مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا ۔

اس کے ساتھ ساتھ کسٹمز ڈیوٹی میں بھی بتدریج کمی لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کا ہدف سال 2030 تک اس میں نمایاں کمی کرنا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد آٹو سیکٹر میں مسابقت کو فروغ دینا اور درآمدی نظام کو زیادہ شفاف بنانا ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان کے آٹو سیکٹر کے لیے بڑی خوشخبری آگئی

نئی پالیسی میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد سے متعلق بھی اہم ترامیم تجویز کی گئی ہیں ۔ مجوزہ قواعد کے مطابق 2027 کے بعد سات سال تک پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت ہوگی، تاہم پانچ سال سے زائد پرانی گاڑیوں کے لیے سخت حفاظتی اور ماحولیاتی معیار پر پورا اترنے کا سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا جائے گا ۔

مزید برآں ،مقامی سطح پر تیار ہونے والی گاڑیوں کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ایک نیا قانون متعارف کرانے کی تیاری کی جا رہی ہے، جس کے تحت عالمی معیار کے مطابق سیفٹی فیچرز کو یقینی بنایا جائے گا ۔

ذرائع کا مزیدکہنا ہے کہ نئی آٹو پالیسی کا مسودہ جلد مکمل کر کے آئی ایم ایف سے حتمی منظوری حاصل کی جائے گی، جس کے بعد اسے وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:فروری 2026 میں گاڑیوں کی فروخت میں 41.7 فیصد اضافہ ریکارڈ

حکومت کو اُمید ہے کہ ان اصلاحات کے نتیجے میں نہ صرف گاڑیوں کی قیمتوں میں استحکام آئے گا بلکہ صارفین کو بہتر معیار اور زیادہ انتخاب بھی میسر ہوگا، جبکہ ملکی آٹو انڈسٹری کو بھی عالمی مسابقت کے لیے تیار کیا جا سکے گا ۔

Scroll to Top