تہران/اسلام آباد: ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے جاری قیاس آرائیوں نے اس وقت نئی جہت اختیار کر لی ہے جب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے حالیہ بیان کا ایک مختلف اور مثبت مفہوم سامنے آیا ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ان بیانات کے برعکس، جن میں کہا جا رہا تھا کہ ایران نے مذاکرات سے مکمل انکار کر دیا ہے، ماہرین اسے صرف موجودہ صورتحال کی عکاسی قرار دے رہے ہیں۔
سینئر صحافی انس ملک نے اس حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی ترجمان کے الفاظ کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو انہوں نے واضح طور پر کہا کہ “فی الحال (YET) مزید مذاکرات کے لیے کوئی ارادہ نہیں”۔ اس جملے میں کلیدی لفظ ‘ابھی’ یا ‘فی الحال’ کا استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران نے مستقبل کے لیے مذاکرات کا دروازہ مستقل بند نہیں کیا، بلکہ موجودہ حالات اور امریکی رویے کی وجہ سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
To those reading Iran’s Foreign Ministry’s statement on different platforms should also listen to the actual statement of what Iran’s FM Spox said, “No plan, YET, for further talks” — The underline word here is yet — Its not an altogether denial or refusal, the statement is based…
— Anas Mallick (@AnasMallick) April 20, 2026
یہ بھی پڑھیں: مذاکرات کو شدید دھچکا: ایران کا امریکا کے ساتھ دوسرے دور میں شامل ہونے سے باضابطہ انکار
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بھی پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ اگلے دور کے لیے فی الوقت کوئی ارادہ موجود نہیں، تاہم اس امکان کو مکمل طور پر مسترد بھی نہیں کیا گیا۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور پاکستان کی میزبانی میں ان مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ایران نے بحری ناکہ بندی اور دیگر امریکی شرائط کو مذاکرات میں بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے، جس کی وجہ سے یہ عمل سست روی کا شکار ہوا۔ سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ ‘نو پلان’ اور ‘ابھی تک’ جیسے بیانات دراصل سفارتی حکمتِ عملی کا حصہ ہوتے ہیں، جن کا مقصد مذاکرات کو ختم کرنا نہیں بلکہ بہتر شرائط حاصل کرنے کے لیے دباؤ بڑھانا ہوتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ رابطہ مکمل ختم ہو گیا ہے، بلکہ یہ عمل صرف وقتی تعطل کا شکار ہے جس کے دوبارہ شروع ہونے کی امید بدستور موجود ہے۔




