امریکا، ایران جنگ: 50 دنوں میں دُنیا کو صرف تیل کی مد میں 50 بلین ڈالر کا ٹیکا

عالمی مارکیٹ: ایران میں تقریباً 50 دن قبل شروع ہونے والی جنگ اور حالیہ بحران نے عالمی توانائی کی مارکیٹ کو جدید تاریخ کے سب سے بڑے دھچکے سے دوچار کر دیا ہے۔ رائٹرز اور عالمی تجزیہ کاروں کے اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران اب تک 50 بلین ڈالر سے زیادہ مالیت کا خام تیل پیدا نہیں ہو سکا ہے، جس کے منفی اثرات عالمی معیشت پر مہینوں اور برسوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

عالمی ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ توانائی کی فراہمی میں اس بڑے تعطل نے عالمی سپلائی چین کو شدید متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے خام تیل کی قیمتوں میں غیر مستحکم اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ جنگ کے باعث پیداواری صلاحیت میں ہونے والی یہ کمی صرف ایران تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں بے یقینی کی ایسی فضا پیدا کر دی ہے جس سے نمٹنے میں طویل عرصہ لگ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں ہلچل، تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

اس صورتحال نے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک، دونوں کے لیے معاشی چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر یہ بحران مزید طول پکڑتا ہے تو عالمی معیشت پر اس کے اثرات مزید گہرے اور سنگین ہو سکتے ہیں۔

Scroll to Top