وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نےسٹریٹ موومنٹ کے تحت 25اپریل کو آزادکشمیر اور یکم مئی کو لاہور کے دورہ کا اعلان کردیا ہے۔
مردان میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اسٹریٹ موومنٹ کا حکم دیا ہے، عمران خان کو پیغام دیا کہ قوم تیار ہے، حکم کریں تو اگلے دن اسلام آباد ہوں گے، ایک بار نہیں ہزار بار عمران خان کی کال پر قربان ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعلیٰ مریم نواز کا سرکاری ملازمین کیلئے بائیک پراجیکٹ شروع کرنے کا فیصلہ
سہیل آفریدی نے کہا کہ مردان جلسے میں عوام کا جم غفیر عمران خان کی کال پر آیا ہے، ہماری اپنی کوئی حیثیت نہیں ہے، کچھ ٹاؤٹس کہتے تھے لوگ نہیں نکلیں گے لیکن مردان نے ثابت کر دیا عوام عمران خان کی کال پر لبیک کہتے ہیں۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ عمران خان کل بھی لیڈر تھا اور آج بھی لیڈر ہے، جو لوگ کہتے تھے کہ عمران خان ختم ہو چکا ہے عوام نے انہیں واضح پیغام دے دیا ہے، میرا لیڈر ایک ہی ہے اور وہ عمران خان ہے، جو حکم دے گا وہی کروں گا، جو ہمارے لیڈر عمران خان کی پالیسی ہے اس پر کل بھی کھڑا تھا اور آج بھی کھڑا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کا مسئلہ ریاست کی ناکام پالیسی کا نتیجہ ہے، عمران خان کے دور میں امن قائم تھا، ناکام پالیسی سے دہشت گردی دوبارہ آئی، میں نے خیبرپختونخوا میں آپریشن کی مخالفت ڈنکے کی چوٹ پر کی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان کی عدالتوں سے امید ختم ہو چکی ہے، نظریں عوام پر ہیں، عمران خان اور ان کی اہلیہ کا ذاتی معالجین اور فیملی کی موجودگی میں علاج نہ ہونے تک احتجاج جاری رہے گا، علاج نہ کرانا اور ملاقاتیں بند کرنا دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ہمارے دور میں جی ڈی پی گروتھ 6 فیصد تھی جو کم ہو کر 2.5 فیصد رہ گئی، قرضے 50 ہزار ارب سے بڑھ کر 81 ہزار ارب ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر کی سیاست میں بڑا بریک تھرو، انجینئر افتخار حسین میر پی ٹی آئی میں شامل
گزشتہ تین سال میں قرضوں میں 31 ہزار ارب روپے اضافہ ہوا، پٹرول 150 روپے سے بڑھ کر 360 روپے سے زائد ہو چکا ہے، کسان اور مزدور مہنگائی کی چکی میں پس چکے ہیں، عوام کی قوت خرید ختم ہو گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ آج خطے میں مذاکرات ہو رہے ہیں، اس کا کریڈٹ پاکستان کو جاتا ہے، مذاکرات عمران خان کی پالیسی ہے، وہ 2002 میں یہ بات کرتے تھے، دنیا آج کر رہی ہے۔
عمران خان نے ہدایت دی ہے کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس سے مشاورت کی جائے، ہم اس کا خیال رکھیں گے، اس مرتبہ صوبائی اسمبلی کا اجلاس گراؤنڈ میں منعقد کریں گے۔




