جموں/دلی :بھارتی سپریم کورٹ سے درخواست ضمانت کی منظوری کے باوجود ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے سربراہ اور بزرگ کشمیری حریت رہنما، کشمیر کے نیلسن منڈیلا شبیر احمد شاہ کی رہائی ممکن نہ ہوسکی ۔
شبیر احمد شاہ کونئے مقدمے میں جموں کی خصوصی این آئی اے عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے انہیں 10 دن کے لیے ایجنسی کی تحویل میں دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:شبیر شاہ بغیر کسی جرم کے قید،بھارتی سپریم کورٹ نےثبوت مانگ لئے
یہ پہلا موقع ہے کہ 2017 میں گرفتاری کے بعد انہیں تہاڑ جیل سے نکال کر جموں و کشمیر کی حدود میں لایا گیا ہے۔
شبیر احمد شاہ کو نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے جمعہ کے روز دلی میں 17 جولائی 1996 کے ایک پرانے مقدمے میں دوبارہ گرفتار کیا تھا۔
یہ مقدمہ سرینگر کے شیر گڑھی پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر سے متعلق ہے، جس میں الزام ہے کہ ہلال احمد بیگ نامی کشمیر حریت پسند کے جنازے کے دوران مشتعل ہجوم نے بھارتی فورسز پر فائرنگ کی اور پتھراؤ کیا تھا۔
این آئی اے نے حال ہی میں (یکم اپریل 2026 کو) اس کیس کو دوبارہ رجسٹر کیا ہے۔جمعہ کی شام پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے شبیر شاہ کو جموں منتقل کرنے کے لیے 3 دن کا ٹرانزٹ ریمانڈ دیا تھا۔
ہفتہ کو انہیں جموں میں جج پرشانت شرما کے سامنے پیش کیا گیا۔ ایجنسی نے موقف اختیار کیا کہ معاملے کی گہرائی تک پہنچنے کے لیے ان سے پوچھ گچھ ضروری ہے، جس پر عدالت نے انہیں 28 اپریل تک این آئی اے کے حوالے کر دیا۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب 72 سالہ شبیر شاہ کو حال ہی میں بڑی قانونی راحت ملی تھی۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے 12 مارچ 2026 کو انہیں ٹیرر فنڈنگ کیس میں، جبکہ دلی کی عدالت نے 28 مارچ کو منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت دی تھی۔ تاہم، ان کی رہائی ممکن نہ ہو سکی اور اب انہیں ایک تین دہائی پرانے کیس میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔
شبیر شاہ کے اہل خانہ اور میرواعظ عمر فاروق سمیت دیگر کشمیری رہنماؤں نے اس گرفتاری پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی سپریم کورٹ، شبیر احمد شاہ کی ضمانت منظور، رہائی کا حکم
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ شبیر شاہ 72 برس کے ہو چکے ہیں اور وہ دل کے عارضے سمیت کئی دیگر سنگین بیماریوں میں مبتلا ہیں۔
ان کا موقف ہے کہ 39 سال سے زائد عرصہ جیلوں میں گزارنے کے بعد انہیں طبی بنیادوں پر رعایت ملنی چاہیے تھی، مگر ضمانت ملنے کے فوراً بعد نئے کیس میں گرفتاری نے ان کی صحت کے حوالے سے خدشات بڑھا دئیے ہیں۔




