تہران (کشمیر ڈیجیٹل)ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول دوبارہ پہلی حالت میں آچکا ہے جس کی وجہ امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر جاری ناکہ بندی ہے۔
خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب کاکہنا ہے کہ امریکی ناکہ بندی تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کیاگیاہے۔ ایران اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور ’سمندری قزاقی‘ قرار دے رہا ہے۔
ترجمان خاتم الانبیاء سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سخت ایرانی کنٹرول میں ہے، آبنائے ہرمز کی سابق حالت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:صحافت اور سیاست لازم و ملزوم ہیں، اخبارات کے مسائل حل کریں گے: وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور
ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش یا اس پر کنٹرول کا فیصلہ خطے کی بدلتی صورتحال اور امریکی اقدامات کے ردعمل میں کیا گیا ہے، جبکہ اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی یہ بیان دے چکے تھے کہ لبنان میں جنگ بندی کے تناظر میں یہ اہم آبی گزرگاہ تجارتی جہازوں کے لیے مکمل طور پر کھول دی گئی ہے۔
🇮🇷🇺🇸 Iran's state media confirmed that the Strait of Hormuz has been closed again:
"The U.S. did not fulfill its obligations. Therefore, the Strait of Hormuz is now closed again, and passage requires Iran’s approval."
When it reopened, Iran warned the U.S. had to lift its… https://t.co/LUb7QsTYMH pic.twitter.com/mBTpjJqh8W
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) April 18, 2026
ایران نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے امریکا پر ’سمندری قزاقی‘ کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مکمل معاہدے تک بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ادھر آبنائے ہرمز کے راستے گزرنے کی کوشش کے دوران کم از کم 2 تجارتی جہاز فائرنگ کی زد میں آ گئے، جس کے بعد خطے میں بحری سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایران نے آبنائے ہرمز پر نگرانی سخت کردی، امریکی ناکہ بندی کا ردِعمل
برطانوی میری ٹائم ایجنسی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی گن بوٹس نے ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق جہاز اور اس کا عملہ محفوظ رہے۔ ایجنسی نے یہ بھی بتایا کہ عمان کے شمال مشرق میں تقریباً 20 ناٹیکل میل کے فاصلے پر پیش آنے والے واقعے میں ایرانی گن بوٹس ٹینکر کے قریب دیکھی گئیں۔
بحری سیکیورٹی اور شپنگ ذرائع کا کہنا ہے کہ فوری طور پر کسی ممکنہ نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
دوسری جانب اس صورتحال سے قبل ایرانی نیشنل سیکیورٹی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے ایک بیان میں خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران نے پہلے ہی متنبہ کیا تھا، لیکن اس پر توجہ نہیں دی گئی، اور اب آبنائے ہرمز کی سابقہ صورتحال کی واپسی کے اثرات دیکھنے کو ملیں گے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایران کا فضائی حدود جزوی طور پر کھولنے کا اعلان، پروازوں کی بحالی شروع
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری معاملات مکمل ہونے تک بحری ناکہ بندی ’مکمل قوت کے ساتھ‘ جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کسی بھی ایسے اقدام کی اجازت نہیں دے گا جو اس کی سکیورٹی یا مفادات کے خلاف ہو۔
ادھر لبنان میں جنگ بندی کے پہلے دن ہزاروں افراد اپنے گھروں کو واپس لوٹنا شروع ہو گئے ہیں، جبکہ ٹرمپ نے اسرائیل کو لبنان پر مزید حملوں سے باز رہنے کی ہدایت بھی کی ہے۔




