ایرانی بحریہ کی 2بھارتی آئل ٹینکرزپر فائرنگ،آبنائے ہرمز سے گزرنے سے روک دیا

تہران(کشمیر ڈیجیٹل)ایران نے کہا کہ وہ عالمی تیل کی تجارت کے تقریباً پانچویں حصے پر سخت فوجی کنٹرول دوبارہ نافذ کر رہا ہے کیونکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھی ہوئی ہے۔

جبکہ امریکی فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی افواج نے ناکہ بندی نافذ کرتے ہوئے 23 جہازوں کو واپس ایران کی طرف موڑ دیا۔

ہفتے کے روز عمان کے شمال میں ایرانی بحریہ کی جانب سے تقریباً 20 لاکھ بیرل عراقی تیل لے جانے والے ایک بڑے ہندوستانی خام تیل کے ٹینکر پر فائرنگ کی گئی، اس معاملے سے باخبر لوگوں نے بتایا کہ، کچھ ہی دیر میں یہ خبریں آئیں کہ دو ہندوستانی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے واپس جانے پر مجبور ہوئے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز دو بارہ بند، ایران کنٹرول حاصل کرچکا ہے، پاسداران انقلاب کا دعویٰ

اس واقعے میں دو جہاز، جگ ارناو اور سنمار ہیرالڈ آئل بردار بھارتی جہاز شامل تھے ۔

دو جہاز جگ ارناو اور سنمار ہیرالڈ کو ایرانی بحریہ نے روک دیا۔ تاہم صرف ایک بھارتی جہاز براہ راست حملے کی زد میں آیا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق، جگ ارناو پر فائرنگ کی گئی، جس سے خطے میں میری ٹائم سیکیورٹی کے حوالے سے تازہ تشویش پیدا ہوئی، جبکہ سنمار ہیرالڈ، جو کہ آس پاس میں تھا نشانہ سے محفوظ رہا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ایران نے آبنائے ہرمز پر نگرانی سخت کردی، امریکی ناکہ بندی کا ردِعمل

بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ ہندوستانی بحریہ اس واقعے کی تفصیلات جاننے کی کوشش کر رہی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز میں ہندوستانی بحریہ کا کوئی جہاز نہیں ۔ ہندوستان کے پاس خلیج عمان میں دو تباہ کن جہاز، ایک فریگیٹ اور ایک ٹینکر ہے۔

حکام نے کہا کہ ہندوستان اسلامی انقلابی گارڈ کور کی فائرنگ کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور ملک آبنائے ہرمز میں کھلے اور آزاد بحری سفر کیلئے کھڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آگ لگنے والے کے ساتھ ہی ایک اور ہندوستانی خام تیل کا ٹینکر تھا، لیکن وہ اس واقعے میںبال بال بچ گیا

Scroll to Top