امریکا ایران معاہدہ نہ ہونے کا اثر، تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہوگیا

سنگاپور: ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور مذاکرات میں عدم پیشرفت کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں کوئی ڈیل نہ ہونے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیت 9 فیصد بڑھ گئی۔

یہ بھی پڑھیں: جنگ بندی برقرار ہے،ایران کو تیل نہیں بیچنے دینگے، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل 103 ڈالر ،ڈبلیو ٹی آئی 105 ڈالر فی بیرل سے زائد میں فروخت ہورہا ہے۔رپورٹ کے مطابق یو اے ای مربن خام تیل کی قیمت ایک فیصد کمی کے ساتھ 98 ڈالر فی بیرل کی سطح پر موجود ہے۔

یاد رہے کہ 15 دن کی عارضی جنگ بندی کے اعلان نے عالمی مارکیٹ میں وقتی سکون پیدا کیاتھا اور خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 10 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی تھی تاہم یہ استحکام زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا۔

گزشتہ روز امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے اور کوئی ڈیل طے نہ ہو سکی۔ مذاکرات کی ناکامی کے فوراً بعد عالمی منڈی میں ایک بار پھر دباؤ بڑھ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد مذاکرات نے سفارتی عمل کی بنیاد رکھ دی، ایرانی سفیر

ماہرین کے مطابق خطے کی غیر یقینی صورتحال مزید برقرار رہی تو توانائی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے آبنائے ہرمز سمیت ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے جس سے صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے اور مشرق وسطیٰ اس سے شدید متاثر ہوگا۔

Scroll to Top