بیونس آئرس: آج جب دنیا ارجنٹینا کو فٹ بال کا بے تاج بادشاہ مانتی ہے، تو بہت کم لوگ یہ حقیقت جانتے ہیں کہ اس لاطینی امریکی ملک کی پہلی ورلڈ کپ فتح کے پیچھے پاکستانی ہاکی ٹیم کی تیار کردہ ایک خاص حکمتِ عملی کا ہاتھ تھا۔ یہ کہانی سنہ 1978 کی ہے، جب پاکستانی ہاکی ٹیم اصلاح الدین صدیقی کی قیادت میں چوتھا ورلڈ کپ کھیلنے ارجنٹینا پہنچی۔
اس دور میں ارجنٹینا کے عوام پاکستان کے نام تک سے واقف نہ تھے اور سبز ہلالی پرچم والے ان کھلاڑیوں کو بھارت کا ہی کوئی حصہ سمجھتے تھے۔ لیکن جب پاکستان نے اپنے پہلے ہی میچ میں آئرلینڈ کو 9-0 سے عبرتناک شکست دی، تو پورا ملک ان ‘اجنبی کھلاڑیوں’ کا گرویدہ ہو گیا۔ ‘فلائنگ ہارس’ سمیع اللہ خان نے اس دور کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہماری جارحانہ ہاکی نے ارجنٹینا کے لوگوں کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل،صاحبزادہ فرحان کی سنچری، ملتان نے بڑا ہدف حاصل کرلیا، حیدرآباد کو شکست
یہ وہ دور تھا جب یورپی ممالک نے دفاعی ہاکی متعارف کروا دی تھی، لیکن پاکستان کے مینیجر عبدالوحید خان نے ‘ڈبل اٹیک’ کی ایک ایسی منفرد حکمتِ عملی تیار کی تھی جس کا توڑ کسی کے پاس نہ تھا۔ پاکستانی کھلاڑیوں کی اس بجلی جیسی تیزی اور ‘منظور گیند پھینک’ جیسی آوازوں نے ارجنٹینا کے فٹ بال کوچز کو اتنا متاثر کیا کہ انہوں نے اپنی ٹیم کے لیے اسی ‘جارحانہ حملے’ کے فارمولے کو اپنایا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ محض ڈھائی ماہ بعد ارجنٹینا نے پہلی بار فٹ بال ورلڈ کپ جیت کر تاریخ رقم کر دی۔ 1978 کا وہ سال پاکستان کے لیے بھی سنہری تھا کیونکہ عبدالوحید خان کی زیرِ نگرانی ٹیم نے ورلڈ کپ، ایشین گیمز اور چیمپئنز ٹرافی جیت کر عالمی ہاکی پر اپنی دھاک بٹھا دی تھی۔




