مظفرآباد: وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے سینٹرل پریس کلب میں تقریبِ حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایک ایسے کٹھن وقت میں حکومت سنبھالی جب ریاست میں سیاسی قیادت کا گھروں سے نکلنا دشوار ہو چکا تھا اور حکمرانوں کو اپنے ہی عوام سے ملنے کے لیے بکتر بند گاڑیوں کا سہارا لینا پڑتا تھا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ ماضی میں حکومت اور عوام کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا کر دی گئی تھی، تاہم ان کی حکومت نے ساڑھے چار ماہ کے مختصر عرصے میں اس دوری کو ختم کیا۔ وزیراعظم نے عزم ظاہر کیا کہ جب پیپلز پارٹی اقتدار چھوڑے گی تو وہ محض ‘چارٹر آف ڈیمانڈ’ (مطالبات) کے بجائے عوام کو ‘چارٹر آف ڈیلیورنس’ (کارکردگی کی دستاویز) دے کر جائے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت آئندہ چند روز میں زراعت اور نوجوانوں کے لیے ایسی انقلابی پالیسیاں لا رہی ہے جن سے نوجوان احتجاجی تحریکوں کے بجائے مثبت سرگرمیوں اور روزگار کی طرف راغب ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور سے شیخ وحید کی ملاقات، صحافیوں کے مسائل کے حل کی یقین دہانی
راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے واضح کیا کہ آزاد کشمیر میں عوام کو پاکستان کے دیگر صوبوں سے بھی زیادہ آزادی حاصل ہے اور حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرنے کے بعد بروقت انتخابات کرائے گی۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے آسیہ اندرابی اور دیگر کشمیری خواتین کو دی جانے والی سزاؤں کی شدید مذمت کی اور عالمی امن کے لیے پاکستان کی عسکری قیادت کے کردار کو بھی سراہا۔ وزیراعظم نے پریس کلب کے لیے 50 لاکھ روپے گرانٹ کا اعلان کرتے ہوئے صحافیوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔




