امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا ایران جنگ کو 2 سے 3 ہفتوں میں ختم کردے گا، ہم رجیم تبدیل کرچکے ہیں اور ایران کی نئی قیادت کم شدت پسند ہے۔
میل ووٹنگ کا ایگزیکٹو آرڈر جاری کرنے کے موقع پر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے ڈونلڈٹرمپ نے کہا کہ ہم نے ایران کو اتنا نقصان پہنچایا کہ وہ 20سال پیچھے چلا گیا ہے،رجیم تبدیل کرنا مقصد نہیںتھا، مقصد یہ تھا کہ ایران کےپاس ایٹمی ہتھیار نہ ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: دوبارہ حملہ نہ کرنے کی مضبوط ضمانت پر جنگ ختم کرنے کو تیار ہیں،ایرانی صدر
انہوں نے کہا کہ جنگ ختم ہونے سےقبل ایران سے ڈیل بھی ہوسکتی ہے،ایران میں مزید رکنے کی اب کوئی وجہ نہیں ہے،جنگ ختم کرنے کیلئے ڈیل ضروری بھی نہیں ہے، ایران کو جتنی ڈیل کی ضرورت ہے اتنی مجھے نہیں ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس ایٹم بم ہوتاتوابھی تک استعمال کرچکا ہوتا،ہمیں ایران کی نئی قیادت قبول ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ آبنائےہرمز میں جو کچھ ہوگا اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں، فرانس یو یاچین جو بھی وہاں جا کر اپنا جہاز لے آئیں ، ہم ہرمز کو محفوط جگہ بنا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب ہمیں لگے گا ایران کے ایٹمی طاقت بننے کا خطرہ ٹل گیا ہے ہم جنگ سے نکل جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: وٹکوف کے پیغامات موصول ہو رہے،پاکستان کے ذریعے بھی بات چیت ہو رہی ہے، ایرانی وزیرخارجہ
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ لوگ مجھ پربادشاہ ہونے کا الزام لگاتے ہیں، پچھلے 4سالوں سے یہ میرے خلاف باتیں کررہے ہیں۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کی نئی قیادت نے مجھے پیغام دیا ہےکہ وہ میری عزت کرتے ہیں،آج ایران کے پاس فضائیہ ہےنہ ہی نیوی موجود ہے، ہم نے سب تباہ کردیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہم وائٹ ہائوس کو محفوظ بنا رہے ہیں، ہرمز میں میراخیال ہے فرانس اور دیگر ممالک اپنا دفاع کر سکیں گے۔




