نیویارک (کشمیر ڈیجیٹل)امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان پر حملہ ہوا تو بھرپور طاقت سے جواب دیں گے۔
رضوان سعید شیخ نے کہا کہ بھارت اپنی جابرانہ پالیسیوں، انتخابی مجبوریوں یا انتظامی کوتاہیوں کا بوجھ پاکستان پر نہیں ڈال سکتا، سات لاکھ فوج کی موجودگی بھی مقبوضہ کشمیر میں امن کو یقینی نہیں بنا سکتی تو یہ بھارت کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔
امریکہ میں تعینات پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے ایک معروف امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں خطے کی موجودہ صورتحال، ایران-امریکہ مذاکرات میں پاکستان کے کردار اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
سفیر پاکستان نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے حالیہ تنازعے میں ثالثی کا کردار وسیع تر علاقائی مفاد میں ہے۔
انہوں نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ دونوں فریقین نے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا، جس پر پاکستان ان کا مشکور ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک نہایت پیچیدہ معاملہ ہے جس میں سیاسی، اقتصادی اور علاقائی عوامل کارفرما ہیں، تاہم پاکستان امن پر مبنی سفارت کاری کی ایک دیرینہ روایت رکھتا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:عمران خان کےبچےکبھی پاکستان کیخلاف بات کرینگے توحمایت نہیں کرینگے: بیرسٹر گوہر
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی حالیہ پیشکش نیک نیتی پر مبنی ہے جس میں دیگر علاقائی ممالک بھی شامل ہیں۔
رضوان سعید شیخ نے امید ظاہر کی کہ معاملات کو خطے کے وسیع تر مفاد میں آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سفارت کاری ایک تدریجی عمل ہے جس کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔
اور پاکستان نتیجہ خیز بات چیت کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، تاہم حتمی فیصلوں کی ذمہ داری متعلقہ فریقین پر عائد ہوتی ہے۔
پاکستانی سفیر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے، گزشتہ سال پاکستان میں دہشت گردی کے تقریباً ایک ہزار واقعات پیش آئے۔۔
پاکستان نے دہشتگردی کی عالمی جنگ میں صف اول کا کردار ادا کیا ، پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانوں اور اربوں ڈالر کا مالی نقصان اٹھایا۔
پہلگام واقعے کے بعد پیدا ہونے والی پاک بھارت کشیدگی اور موجودہ صورتحال پر سفیر نے پاکستان کا واضح دوٹوک موقف بیان کر دیا۔
امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ ذمہ داری اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔
ہم امن کے خواہاں ہیں تاہم اس کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔۔ اگر پاکستان کے خلاف کسی قسم کی مہم جوئی ہوئی تو ہم بھرپور قوت سے اسکا جواب دیں گے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:شوکت نواز میر کا لب ولہجہ فرعونی، اپنی حیثیت کیمطابق بات کیا کرینگے، کشمیری عوام
انہوں نے کہا کہ ہم خطے میں کشیدگی نہیں چاہتے لیکن اگر دو جوہری طاقتیں آمنے سامنے آئیں تو حالات کیا شکل اختیار کرتے ہیں اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا،
ہماری معاشی ترقی امن کی متقاضی ہے لیکن ہم باوقار امن پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلگام واقعے کے حوالے سے بھارت کی جانب سے تاحال کسی قسم کا کوئی بھی ثبوت پاکستان یا دنیا کے سامنے نہیں رکھا گیا۔
افغانستان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے سفیر پاکستان نے واضح کیا کہ پاکستان سرحد پار سے جنم لینے والی دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی کارروائیوں اور ٹھکانوں کی بارہا نشاندہی کے باوجود افغان حکومت کی جانب سے مؤثر کارروائی نہ ہونے پر پاکستان کو مجبوراً خود اقدامات کرنا پڑے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے عوام کو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھتا نہیں دیکھ سکتا، اور افغانستان سے جنم لینے والی ریاستی دہشت گردی کے واضح شواہد موجود ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کو بھارتی سرپرستی حاصل ہے۔
سفیر پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان مذاکرات اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔




