برطانیہ کا امریکا کو جھٹکا ،ایران کیخلاف زمینی کارروائی میں شریک نہ ہونے کا اعلان

برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے دوٹوک الفاظ میں واضح کردیاکہ برطانوی افواج ایران میں امریکاکے زمینی حملےکا حصہ نہیں بنیں گی۔

برطانوی وزیراعظم نےکہا کہ ایران جنگ ہماری جنگ نہیں ہے، ہم اس میں نہیں الجھیں گے، ہم نے جو کیا ہے وہ دفاعی اقدام ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران نے امریکا کی کچھ تجاویز پر اتفاق کرلیاہے ، ترجمان وائٹ ہائوس

برطانوی وزیراعظم نےکہا برطانیہ دفاعی اقدامات جاری رکھےگا، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کےلیےکام کرتا رہے گا۔

انہوں نے کہا جنگ شروع ہونےکے ایک یا دوگھنٹے بعد ہی ہم نے اپنے پائلٹس کو فضا میں تعینات کر دیا تھا، اقدام کا مقصد برطانیہ کے شہریوں، مفادات اور خطے میں اپنے اتحادیوں کا دفاع کرنا تھا۔

برطانوی وزیراعظم کاکہنا تھا ہم برطانیہ کےقومی مفادات، خطےمیں لوگوں کے تحفظ پر توجہ مرکوز رکھیں گے، جنگ کےگھریلو سطح پرپڑنے والے اثرات پر جو کچھ کرسکتےہیں کریں گے، اور بین الاقوامی اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے۔

قبل ازیں اسپین نے ایران کے خلاف جنگ میں شامل امریکی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کی تھی۔

عالمی میڈیا کے مطابق اسپین کی وزیرِ دفاع مارگریٹا روبلس نے پیر کے روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے فضائی حدود کی بندش کی تصدیق کی۔

یہ خبر سب سے پہلے اسپین کے مقامی اخبار ایل پیس نے فوجی ذرائع کے حوالے سے دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کےذریعے مذاکرات،ایران کیساتھ جلد ڈیل ہوسکتی، ٹرمپ،تیل ذخائر،خارگ جزیرے پر قبضے کابھی عندیہ

اسپین (ہسپانیہ)کی وزیر دفاع مارگریٹا روبلس نے کہا کہ یہ بات شروع ہی سے امریکی فوج اور افواج پر بالکل واضح کر دی گئی تھی اس لیے امریکی طیاروں کو نہ تو یہاں اڈوں کے استعمال کی اجازت ہے اور نہ ہی ایران میں جنگ سے متعلق کسی بھی کارروائی کے لیے ہماری فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دی گئی۔

وزیر دفاع نے ایران کے خلاف جنگ کو انتہائی غیر قانونی اور انتہائی ناانصافی قرار دیا اور کہا کہ میرا خیال ہے کہ اسپین کے مؤقف سے سب واقف ہیں۔

Scroll to Top