اسلام آباد: آزاد جموں و کشمیر میں آئندہ عام انتخابات 2026 کی تیاریوں کے سلسلے میں ایک اہم اور اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس جموں کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفی مغل نے کی، جس میں آزاد کشمیر کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان، نمائندگان اور پاکستان میں مقیم مہاجرین جموں و کشمیر کے اراکین اسمبلی نے بھرپور شرکت کی۔ اجلاس میں ممبر الیکشن کمیشن سید نظیر الحسن گیلانی اور سیکرٹری الیکشن کمیشن راجہ شکیل خان بھی شریک ہوئے، جبکہ سیکرٹری الیکشن کمیشن نے میزبانی کے فرائض انجام دیے۔
اجلاس میں سیاسی قیادت کی کہکشاں نظر آئی جس میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شاہ غلام قادر، پیپلز پارٹی کے صدر چوہدری محمد یسین، مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان، جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر محمد مشتاق خان، اور مرکزی جمعیت اہلحدیث کے امیر پروفیسر ڈاکٹر محمد الیاس سمیت دیگر جماعتوں کے قائدین شامل تھے۔ اس کے علاوہ سابق وزیراعظم سردار عبدالقیوم نیازی، وزیر حکومت سردار جاوید ایوب، اور مہاجرین مقیم پاکستان کے نمائندہ اراکین اسمبلی کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد انتخابی عمل کو شفاف، منصفانہ اور منظم بنانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کی تجاویز حاصل کرنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات 2026: گجر قومی پارٹی سیاسی اسٹیک ہولڈر تسلیم کر لی گئی
چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفی مغل نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اہم اعلانات کیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آزاد کشمیر میں عام انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہوں گے اور مئی 2026 میں انتخابی شیڈول کا باقاعدہ اعلان کر دیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ الیکشن کمیشن کا ارادہ ہے کہ یہ انتخابات پاک فوج کی زیر نگرانی منعقد کرائے جائیں تاکہ ووٹ کے تقدس کو ہر حال میں قائم رکھا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانون کے تحت 120 دن پہلے ورکنگ پلان دینا لازمی ہے، جس پر کام جاری ہے اور ووٹر لسٹوں کی تیاری، اندراج اور اخراج کے لیے ضلعی انتظامیہ سرگرم عمل ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے صدارتی انتخاب کے حوالے سے بھی تمام ابہام دور کرتے ہوئے کہا کہ آئین و قانون کی بالادستی مقدم رکھی جائے گی اور تمام عمل آئین کے مطابق وقتِ مقررہ پر ہوگا۔
ممبر الیکشن کمیشن سید نظیر الحسن گیلانی نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آزاد کشمیر کا پورا الیکٹورل سسٹم ڈیجیٹلائز کر دیا گیا ہے اور اسے نادرا کے ڈیٹا بیس سے لنک کر دیا گیا ہے۔ اس سسٹم کے تحت 18 سال کی عمر کو پہنچنے والے نوجوان خود بخود بطور ووٹر رجسٹر ہو جائیں گے۔ انہوں نے نادرا کی موبائل وینز کی خدمات کو سراہا اور تجویز دی کہ نادرا دفاتر کو یونین کونسل کی سطح تک لے جایا جائے تاکہ عوامی شرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔ سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے ووٹر لسٹوں کی موضع جات کے بجائے وارڈ کی سطح پر تیاری، سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات، اور مہاجرین کے حلقوں میں پیرا ملٹری فورسز کی تعیناتی جیسی اہم تجاویز پیش کیں۔ اجلاس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ الیکشن کمیشن، حکومت اور تمام سیاسی جماعتیں باہمی تعاون سے ایک ایسا انتخابی عمل یقینی بنائیں گی جو شفافیت کی اعلیٰ مثال ہو۔




