مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل) حلقہ کھاوڑا کے علاقے مہلم چڑکپورہ میں معمولی تلخ کلامی سلح تصادم میں تبدیل ہو گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور پانچ افراد زخمی ہو گئے
ایس ایچ او سمیت سات افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ مہلم کے رہائشی فیاض احمد نے بتایا کہ اس واقعے میں ایک بے گناہ شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
واقعہ اس وقت پیش آیا جب سیکرٹری ہائر ایجوکیشن آزاد کشمیر، تہذیب النساء سیاحتی مقام پر اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ فوٹوگرافی میں مصروف تھیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کشمیری حریت رہنما آسیہ اندرابی کو عمر،صوفی فہمیدہ،ناہیدہ نسرین کو 30 ،30 سال قید کی سزا
مقامی رہائشی تبارک، جو اسی لنک روڈ سے اپنے گھر جانا چاہتا تھا گاڑی کی وجہ سے رک گیا اس پر سیکرٹری تعلیم سخت لہجہ میں اسے وہاں سے ہٹنے کو کہا جس پر تبارک نے جواب دیا کہ اس کا گھر قریب ہے اور راستہ گاڑی کی وجہ سے بند ہے، اس لیے وہ آگے نہیں جا سکتا
اس کے بعد تبارک اور سیکرٹری تعلیم کے ڈرائیور کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جو ہاتھا پائی میں تبدیل ہو گئی بعد ازاں سیکرٹری تعلیم نے گاڑی وہاں سے ہٹا دی اور قریبی گاؤں میں ایک جنازے میں شرکت کیلئے چلی گئیں۔۔
اطلاعات کے مطابق سیکرٹری تعلیم نے واقعے کے بعد پولیس تھانہ سول سیکرٹریٹ کو طلب کیا۔
پولیس مہلم سے ہوتی ہوئی ٹھریاں میں ہونے والے جنازے کے مقام پر پہنچی، جہاں بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے اور سیکرٹری تعلیم بھی موجود تھی،یہاں موجود افراد میں پہلے سے موجود کشیدگی بڑھ گئی
واقعے نے عوام میں اشتعال پیدا کر دیا بتایا جاتا ہے کہ راجگان برادری پولیس کے ہمرا مسلح ہو کر چوہدری برادری کے خلاف آ گئی جس کے بعد مہلم کا علاقہ میدان جنگ بن گیا
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر میں برفباری ،بارشوں کا نیا سپیل ، محکمہ موسمیات کاالرٹ جاری
دونوں جانب سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جبکہ پولیس کی نفری موقع پر موجود رہی تاہم صورتحال پر قابو نہ پایا جا سکا
فائرنگ کے دوران بشیر خان مغل، ساکن ڈھارہ مغلاں، جو چندہرہ میں اپنی بیٹی کے گھر عید کے سلسلے میں آئے ہوئے تھے، گولیوں کا نشانہ بن گئے۔
پولیس نے انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا تاہم وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے،یوں اس واقعے نے ایک گھر کو اجاڑ دیا اور پورا علاقہ میدان جنگ میں تبدیل ہو گیا،
واقعے میں پولیس اہلکاروں سمیت دیگر افراد بھی زخمی ہوئے بتایا جاتا ہے کہ سیکرٹری تعلیم کی ہدائت پر جانے والی پولیس خود اپنے جوانوں کو زخمی کروانے کے علاوہ دیگر افراد کے زخمی ہونے اور ایک شخص کی جان جانے کا باعث بن گئی۔
مقتول محمد بشیر کے ورثاء انصاف کے طلبگار ہیں اور یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ وہ کس سے انصاف کی امید رکھیں، جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ غریب کا مقدمہ فائلوں میں دب کر رہ جائے گا
سیکرٹری تعلیم کا مؤقف
دوسری جانب سیکرٹری ہائر ایجوکیشن تہذیب النساء کی جانب سے سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے موقف میں کہا گیا اس ناخوشگوار واقعے سے ان کا کوئی براہِ راست تعلق نہیں
ان کے مطابق وہ ایک سیاحتی مقام پر فوٹوگرافی کیلئے رکی ہوئی تھیں جہاں ایک نوجوان کی جانب سے مداخلت اور رُکنے پر اچانک ناخوشگوار صورتحال پیدا ہوئی جسے انہوں نے خود یہ کہہ کر ختم کیا کہ سب ایک ہی علاقے کے رہنے والے ہیں ۔۔
ان کا کسی سے کوئی جھگڑا نہیں وہ موقع سے واپس چلی گئیں اور فائرنگ کا واقعہ بعد میں پیش آیا، جس کی اطلاع انہیں گھر پہنچنے پر ملی اس واقعے پر وہ شدید رنجیدہ اور قانون شکن عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی خواہاں ہیں
اس واقع کے خلاف قتل ہونوالے بشیر کے ورثہ کی جانب سے تھانہ پولیس سیول سیکرٹریٹ میں درخواست دی گئی جہا ایک پولیس،افسر راجہ تحسین،راجہ امتیاز،راجہ شجاعت الماس،راجی اسفند،راجہ شہزاد،راجہ شوکت،راجی ریحان راجی نادر راجہ نبیل، سمیت سات افراد کے خلاف مقدم درج کیا گیا۔




