اگر آپ کا فون وقت کے ساتھ بتدریج سست ہوتا جا رہا ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ اس میں موجود چند ایپس بھی ہوسکتی ہیں۔ یہ ایپس ڈیوائس کی ریم اور سی پی یو کو استعمال کرتی ہیں تاکہ ہموار طریقے سے کام کرسکیں۔
مگر وقت کے ساتھ یہ ایپس فون کو سست کر دیتی ہیں، خاص طور پر اگر آپ ایسا اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں جس کی ریم 8 جی بی سے کم ہوتی ہے اور آپ زیادہ پاور اور ڈیٹا کھینچنے والی ایپس کو زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انڈونیشیا نے 16سال سے کم عمربچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کردی
کئی بار بیک گراؤنڈ یوز ایج کو محدود کرکے ایپس کو کنٹرول میں رکھا جاسکتا ہے مگر ایسا ہر وقت ممکن نہیں ہوتا یا بیشتر افراد کے لیے ایسا کرنا ہی آسان نہیں ہوتا۔
چند ایسی ایپس کے بارے میں جانیں جو سی پی یو کی پاور کو مسلسل کھینچتی رہتی ہیں اور فون کو سست کر دیتی ہیں۔
ٹک ٹاک
ٹک ٹاک کو ایپ کے اندر ویڈیو فیڈ بیک کو مستحکم رکھنے کے لیے بہت زیادہ ڈیٹا کی ضرورت ہوتی ہے مگر یہ زیادہ بڑا مسئلہ نہیں کیونکہ ہر ایپ میں میڈیا مواد کو اسکرول ایبل بنانے کے لیے یہ ایک عام فیچر ہے۔
مگر ٹک ٹاک ایک ویڈیو ایپ ہے اور اسے زیادہ پراسیسنگ پاور کی ضرورت ہوتی ہے۔آپ چاہے اسے کبھی کبھار ہی استعمال کریں مگر یہ سی پی یو اور اسٹوریج کو کافی زیادہ استعمال کرتی ہے جبکہ cashe کو بہت زیادہ بھر کر استعمال کرتی ہے۔
اگر آپ زیادہ بدقسمت ہوں تو مناسب ریم پاور کے باوجود ایپ کے ساتھ مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔خوش قسمتی سے اس کا حل بھی موجود ہے اور اگر آپ کو محسوس ہو کہ ٹک ٹاک ایپ سے فون سست ہورہی ہے تو ٹک ٹاک لائٹ کو انسٹال کرسکتے ہیں جو کہ ریگولر ایپ کا لائٹ ورژن ہے۔
یہ زیادہ تیزی سے لوڈ ہوتی ہے، کم اسٹوریج استعمال کرتی ہے اور پرانے ہارڈوئیر میں بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہے۔
گوگل فوٹوز
گوگل فوٹوز ایپ بیشتر اینڈرائیڈ فونز میں پہلے سے انسٹال ہوتی ہے تو ہوسکتا ہے کہ آپ کو اس کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہوچکا ہو۔
اگر آپ آف لائن لوکل فون اسٹوریج ایپ استعمال کرنا چاہتے ہیں تو گوگل گیلری اچھا آپشن ہے کیونکہ گوگل فوٹوز بنیادی طور پر ویڈیوز اور فوٹوز کے لیے کلاؤڈ اسٹوریج سروس ہے۔ہر ایسی ایپ جو کلاؤڈ سروس کے طور پر استعمال ہوتی ہے، فون کو سست کر دیتی ہے۔
مثال کے طور پر ایپ میں فوٹوز بیک ایپ کو ٹرن آن کیا جاتا ہے تو فون فوری طور پر سست ہو جاتا ہے، جس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ایپ تمام بیک گرؤنڈر ریسورسز کو استعمال کرکے فوٹوز کو کلاؤڈ پر اسٹور کرتی ہے۔
یہ پورا عمل بیک گراؤنڈ میں ہوتا ہے جس کے لیے سی پی یو اور نیٹ ورک ریسورسز کی ضرورت ہوتی ہے اور فون سست ہو جاتا ہے۔
گوگل میپس
گوگل میپس سے بھی آپ کی فون کی پرفارمنس متاثر ہوتی ہے کیونکہ اسے بھی بہت زیادہ ریسورسز کی ضرورت ہوتی ہے جیسے ڈیوائس کے جی پی ایس ہارڈ وئیر کی، تاکہ جغرافیائی تفصیلات کو اپ ٹو ڈیٹ رکھ سکے۔
ویسے تو صارفین اکثر اس ایپ کو اپنے علاقے یا سفری مقامات کی رئیل ٹائم تفصیلات کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہیں مگر یہ مسلسل بیک گراؤنڈ میں متحرک رہتی ہے اور متعلقہ ڈیٹا اکٹھا کرتی رہتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین کی تعداد کتنی ہے ؟ PTAنے اعداد و شمار جاری کر دئیے
اس کے ساتھ ساتھ لوکیشن سروسز کو وائی فائی رینج سے استعمال کرنے پر موبائل ڈیٹا کام کرتا ہے اور فون کو سست بناتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ اگر آپ cashe کو منیج بھی کرلیں تو بھی گوگل میپس کے لوڈنگ ٹائم میں کوئی خاص بہتری نہیں آتی۔
انسٹا گرام
انسٹا گرام واحد ڈیٹا چوسنے والی ایپ نہیں، ہر سوشل میڈیا ایپ جیسے فیس بک بھی لگ بھگ اسی طرح کام کرتی ہے۔
تو آپ آپ کسی ایک ایپ کو دوسری کی جگہ دے کر فون کی کارکردگی بہتر نہیں بناسکتے۔سوشل میڈیا ایپس نوٹیفکیشنز بھیجنا پسند کرتی ہیں خاص طور پر پش نوٹیفکیشنز جو کئی بار بیٹری پاور متاثر کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ نوٹیفکیشنز کی بھرمار سے اسکرین بار بار روشن ہوتی ہے اور پراسیسر کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔یہ ایپ بیک گرؤنڈ میں کام کرتی رہتی ہے تاکہ ایپ کا ڈیٹا ریفریش ہوسکے۔
انسٹا گرام سے فون سست ہونے کی ایک اور وجہ اس میں بہت زیادہ میڈیا پری لوڈ ہونا ہے تاکہ فیڈ میں اسکرولنگ کا عمل بہترین ہو، جس کا مطلب یہ ہے کہ ڈیٹا کو وقت سے پہلے لوڈ کیا جاتا ہے، خاص طور پر ویڈیو مواد، جس سے cashe کرپٹ ہونے کا امکان بڑھتا ہے اور فون معمول سے زیادہ سست ہو جاتا ہے۔
اسپاٹی فائی
یہ ایپ بھی فون کو سست کرتی ہے چاہے آپ ایپ ڈیٹا سیور موڈ کو ٹرن آن کر دیں۔
یہ ایپ اسٹریمنگ اور آف لائن استعمال کے لیے cashes مواد کو جارحانہ انداز سے استعمال کرتی ہے تاکہ آپ کو بفرنگ مسائل کا سامنا نہ ہو۔
بفرنگ کی روک تھام کا یہ طریقہ کار اس وقت مسائل کا باعث بنتا ہے جب فون کی اسٹوریج کم ہو اور آپریٹنگ سسٹم کے لیے فائلز کو منیج کرنا مشکل ہو جائے۔




