بھارتی دھمکیوں پر کینیڈا میں مقیم سکھ رہنما کا مشن دوگنا تیز کرنے کا اعلان

کینیڈا میں مقیم سکھ کارکن اور سکھ فیڈریشن آف کینیڈا کے چیئرمین مونیندر سنگھ نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے نئی دھمکیوں کے باوجود خالصتان مشن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور جدوجہد دو گنا تیز کرینگے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک ایسے ملک جہاں ایک سکھ کارکن کو 2023 میں قتل کر دیا گیا تھا، میں فیملی کے ہمراہ رہائش پذیر مونیندر سنگھ کے مطابق جب انہیں جان سے مارنے کی دھمکیوں کا علم ہوا تو انہوں نے پھر بھی اپنا کام جاری رکھنے کا ارادہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: سکھ رہنما گرپتونت نے مبینہ قتل سازش پر بھارتی قیادت پر الزامات عائد کر دئیے

سکھ فیڈریشن آف کینیڈا کے چیئرمین نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہم خاموش نہیں ہوں گے۔

انہوں نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے یورپین ہیڈکوارٹر میں گفتگو کرتے ہوئے انڈیا کی جانب سے بیرون ملک سکھ کارکنوں کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کے خلاف بین الاقوامی سطح پر کارروائی کی اپیل بھی کی۔

یاد رہے کہ انڈیا خالصتان تحریک سے جڑے سکھ رہنمائوں کو بیرون ممالک میں نشانہ بنا رہا ہے۔

اس معاملے میں سب سے مشہور کیس مونیندر سنگھ کے دوست ہردیپ سنگھ نجر کا ہے جن کو 2023 یمں وینکوور کے مضافاتی علاقے میں ایک گوردوارے کے قریب گولی مار کر مار دیا گیا تھا۔

واقعے کے بعد اس وقت کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے انڈیا پر الزام لگایا تھا کہ وہ اس میں ملوث ہے، جس کے بعد یہی الزام کینیڈین خفیہ اداروں نے بھی دوہرایا۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی دھمکی ناکام ، سکھ برادری نے پاکستان کیساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کر دیا

انڈیا کی جانب سے اس کی تردید کی گئی تاہم دونوں ممالک کے درمیان تعلقات شدید تناؤ کا شکار ہو گئے اور دونوں ممالک کی جانب سے دوسرے ملک کے سفارت کاروں کو 2024 میں ملک سے نکالا گیا۔

پچھلے برس وزارت عظمیٰ سنبھالنے والے مارک کارنی کی آمد کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئی، انہوں نے انڈیا کا دورہ بھی کیا اور کئی معاہدوں پر دستخط بھی کئے گئے۔

44 سالہ کینیڈین شہری مونیندر سنگھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ کینیڈین حکومت کی جانب سے سفارتی تعلقات کو اتنی جلدی بغیر کسی تبدیلی کے معمول پر لانا’ ’انتہائی پریشان کن‘‘ہے۔

ان کے مطابق ہم انڈیا جا کر ان لوگوں سے مصافحہ کر رہے ہیں جن کے ہاتھ کینیڈینز کے خون سے آلودہ ہیں۔ہردیپ سنگھ نجر کی طرح مونیندر سنگھ بھی آزاد سکھ ریاست کی وکالت والے گروپ کا حصہ ہیں جس کو خالصتان کہا جاتا ہے۔

یہ تحریک 1947 میں ملک کے آزاد ہوتے ہی شروع ہو گئی تھی اور اس پر ایک وزیراعظم کے قتل اور ایک مسافر بردار جہاز کو نشانہ بنانے کے الزامات بھی ہیں۔

ہردیپ سنگھ نجر کے مارے جانے سے ایک سال قبل کینیڈا کے حکام نے ان کے علاوہ مونیندر سنگھ کو بھی خطرات سے آگاہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی میگزین نے بھارت کا سکھ رہنمائوں کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بے نقاب کردیا

انہوں نے پچھلے ہفتے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ کیسا ردعمل دیا جائے، ہم نے یہ نہیں سوچا تھا کہ انڈیا دوسرے ممالک کی سرزمین پر کسی کو قتل کرے گا اور ہم یقینی طور پر غلط تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا حوصلہ بلند ہے اور کسی طور خاموش نہیں بیٹھیں گے۔میں نے اس کو مثبت انداز میں لیا ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ وہ وقت آ گیا ہے کہ اپنی جدوجہد کو دو گنا کیا جائے۔

Scroll to Top