امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ ہفتے جب فلوریڈا روانہ ہو رہے تھے تو انہیں اچانک ایران سے جنگ بندی کا خیال آیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق فلوریڈا روانگی سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نےکہا کہ جب آپ دوسرے فریق کو تباہ کر رہے ہوتے ہیں تو سیزفائر نہیں کرتے، لیکن تین دن کی مہلت اور ایران میں پراسرار اہلکار سے گفتگو کے بعد ٹرمپ کی سوچ بدل گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے مذاکرات اور جنگ بندی کیلئے 6 اسٹریٹجک شرائط پیش کردیں
ٹینیسی میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا وہ چاہتے ہیں معاملہ حل ہو اور ہم یہ کرنے جا رہے ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق اب تو تجویز ہےکہ پاکستان رواں ہفتے ایران اور امریکا کے درمیان ملاقات کی میزبانی کرےمجوزہ ملاقات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس شرکت کرسکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکا کے مؤقف میں یہ تبدیلی خلیجی اتحادیوں کی وارننگز کے بعد آئی، ان کی وارننگ تھی کہ ایران میں توانائی مراکز پر حملہ کشیدگی میں خطرناک اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات کا اعلان پیر کو امریکی مارکیٹ کھلنے سے دو گھنٹے پہلے کیا گیا، اعلان نے وال اسٹریٹ میں تیزی پیدا کی، برینٹ کروڈ کی قیمت میں نمایاں کمی آئی، یہ دونوں عوامل ٹرمپ اور ان کے مشیروں کے لیے تشویش کا باعث بن رہے تھے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے توانائی اسٹرکچر پر 5 روز کے لیے حملے بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان امن کے لیے کلیدی کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششیں تیز
صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ میں اور مجتبیٰ خامنہ ای مل کر آبنائے ہرمز کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اب ہم آنکھ کے بدلے آنکھ نہیں سر لیں گے۔




