توانائی بحران کتنا سنگین ہوسکتا ہے؟بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے خبردار کردیا

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے کہا کہ دنیا کو اس وقت تیل کے تاریخی بحران کا سامنا ہے۔

آبنائے ہُرمز کی بندش اور تیل بردار جہازوں پر حملوں نے عالمی تیل سپلائی کو یومیہ 11 ملین بیرل تک گھٹا دیا ہے، اتنی کمی 70 کی دہائی کے بحران میں بھی نہیں ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ایران نے مذاکرات اور جنگ بندی کیلئے 6 اسٹریٹجک شرائط پیش کردیں

آسٹریلیا میں بات کرتے ہوئے آئی ای اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے کہا دنیا کو اس وقت 70 کی دہائی سے بڑے توانائی بحران کا سامنا ہے۔

70 کی دہائی میں دنیا نے 1973 اور 1979 میں تیل کا بحران دیکھا تھا پھر 2022 میں روس اور یوکرین کی جنگ شروع ہونے پر گیس کا عالمی بحران سامنے آیا تاہم یہ بحران اتنی شدت کا نہیں تھا۔

فاتح بیرول بولے بدقسمتی سے ابتدا میں اس بحران کو بہتر طور پر سمجھا ہی نہیں گیا اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس موضوع پر عوام میں آکر بات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں گیس کا شدید بحران،ہوٹلوں کے مینیو سے چائے غائب

فاتح بیرول نے بتایا کہ وہ مختلف ملکوں سے ان کے محفوظ ذخائر سے تیل کی ریلیز کی بات کے لیے رابطوں میں ہیں لیکن محفوظ ذخائر سے تیل کی ریلیز مسئلے کا حل نہیں، مسئلہ آبنائے ہرمز کی بندش کے خاتمے کے ساتھ ہی حل ہوگا۔

یاد ہے کہ امریکا اسرائیل کی ایران سے جنگ شروع ہونے پر آبنائےہرمز بند ہے جس سے دنیا کو شدید توانائی بحران کا سامنا ہے اور مشرق وسطیٰ کے ممالک شدید متاثر ہیں۔

Scroll to Top