ایران کے سرکاری اہلکار نے نام ظاہر کئے بغیر ایرانی میڈیا کو بتایا کہ علاقائی پارٹیوں اور ثالثوں نے ایران کو تجاویز پیش کی ہیں کہ جنگ روکی جائے۔
اہلکار نے نئے قانونی اسٹریٹجک فریم ورک کے تحت 6شرائط بتائیں جن میں سے اولین جنگ دوبارہ نہ شروع ہونے کی یقین دہانی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران، امریکا کے اسلام آباد میں مذاکرات ، پاکستان میزبانی کیلئے تیار ہے، دفتر خارجہ
دوسری خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو بند کیا جانا ہے، تیسری جارح کو پیچھے دھکیلنا اور ایران کو ہرجانے کی ادائیگی ہے۔
چوتھے تمام علاقائی فرنٹس پر جنگ کو ختم کیا جانا ہے، پانچویں آبنائے ہرمز کیلیے نئے قانونی رجیم پر عمل درآمد کیا جانا ہے اور چھٹی شرط ایران مخالف میڈیا آپریٹیوز کیخلاف قانونی کارروائی اور انہیں ملک بدر کرنا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران کا یہ اقدام ایک سوچے سمجھے سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد نہ صرف کشیدگی کو کم کرنا بلکہ عالمی سطح پر اپنی پوزیشن کو بھی مستحکم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی لانے کیلئے پاکستان کا اہم کردار ہے ،رائٹرز کا دعویٰ
بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ شرائط مستقبل کے کسی بھی معاہدے کی بنیاد بن سکتی ہیں تاہم ان پر عملدرآمد آسان نہیں ہوگا۔
مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو سکے گا کہ آیا ایران کی جانب سے پیش کردہ شرائط کشیدگی میں کمی کا باعث بنتی ہیں یا خطے میں سفارتی سرگرمیوں میں مزید تیزی آتی ہے۔




