تحریر:عامر اقبال ہاشمی
پاکستان کے ریاستی منظرنامے میں ایک نمایاں اور فیصلہ کن تبدیلی اب پوری طرح ظاہر ہو چکی ہے، جو صرف بیانات یا اعلانات تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات کی شکل میں بھی سامنے آ رہی ہے۔ اس واضح اور مؤثر حکمتِ عملی میں ایک امید کی جھلک بھی موجود ہے۔ ریاست اب ایک ’’ہارڈ اسٹیٹ‘‘ کے طور پر اپنی عملداری قائم کرنے کے لیے سنجیدہ اور متحرک دکھائی دے رہی ہے۔ بالخصوص نان اسٹیٹ ایکٹرز کے حوالے سے اختیار کیا گیا سخت اور دوٹوک رویہ ماضی کی پالیسیوں سے واضح انحراف ہے۔
طویل عرصے تک جاری رہنے والے ابہام اور وقتی ردعمل کے بعد اب ریاست اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ نان اسٹیٹ ایکٹرز کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہے گی۔ اب یہ طے ہو چکا ہے کہ ان کا کردار مکمل طور پر ختم کیا جائے گا اور کسی کو بھی ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سکیورٹی فورسز کی جانب سے کالعدم تنظیموں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں، شدت پسند عناصر کا خاتمہ اور غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف سخت اقدامات اسی نئی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ اب ہر وہ عنصر جو ریاستی عملداری کو چیلنج کرتا ہے یا متوازی نظام قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے، بلا تفریق ریاستی کارروائی کی زد میں ہے۔ موجودہ مقتدرہ ’’فولادی‘‘ طرزِ عمل کا مظاہرہ کر رہی ہے اور اس کے عملی نتائج بھی واضح ہیں۔
اعدادوشمار اس پالیسی کی سنجیدگی کو ظاہر کرتے ہیں: سالانہ 60 سے 70 ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا رہے ہیں، جبکہ ہر سال 1500 سے 2000 دہشت گرد ہلاک اور سیکڑوں گرفتار کیے جا رہے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان (TTP) بدستور سب سے بڑا خطرہ ہے، جبکہ بلوچستان میں بی ایل اے کے خلاف بھی وسیع پیمانے پر آپریشنز کیے گئے ہیں جن میں سینکڑوں شدت پسند مارے گئے۔
وہ عناصر جو ماضی میں ’’گڈ طالبان‘‘ کے نام سے برداشت کیے جاتے تھے، اب بلا امتیاز کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔ اب ریاست کے لیے کوئی ’’گڈ‘‘ یا ’’بیڈ‘‘ طالبان نہیں ہیں؛ دہشت گرد صرف دہشت گرد ہیں اور انہیں چن چن کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے سرحد پار اہداف کو نشانہ بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ریاست دفاعی حکمتِ عملی سے آگے بڑھ کر جارحانہ پوزیشن اختیار کر چکی ہے، جو فتنوں کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ (CTD) ملک بھر میں سینکڑوں گرفتاریاں کر کے سلیپر سیلز کو ختم کر رہا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور تحریک انصاف سے وابستہ عناصر کے خلاف کارروائیاں زیادہ تر انتظامی نوعیت کی رہی ہیں، جن میں گرفتاری اور ریاستی کنٹرول شامل ہے۔ یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ ریاست مختلف نوعیت کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے الگ الگ حکمتِ عملیاں اختیار کر رہی ہے، تاہم مجموعی سمت ایک ہی ہے: زیرو ٹالرنس۔ اب ریاست کو کوئی بلیک میل نہیں کر سکے گا اور ریاست اپنی عملداری قائم کرے گی۔
پاکستان اب وقتی ردعمل سے نکل کر ایک مستقل اور مربوط حکمتِ عملی کی جانب گامزن ہے۔ ریاستی ادارے ’’انقلاب‘‘ کے بجائے ’’تدریج‘‘ کے اصول کو اختیار کیے ہوئے ہیں، جہاں طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ جمہوری عمل، عوامی رائے اور ووٹ کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر قائداعظم محمد علی جناحؒ نے ایک آئینی اور جمہوری ریاست کی بنیاد رکھی تھی۔ اسٹیبلشمنٹ کے رویوں میں بھی واضح تبدیلی محسوس کی جا سکتی ہے۔ پالیسی سازی میں سنجیدگی، مشکل فیصلوں کا تسلسل اور ریاستی مفاد کو اولین ترجیح دینا ایک بڑی اسٹریٹجک تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
ماضی کے تجربات نے یہ سبق دیا ہے کہ ابہام اور دوہری پالیسی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے، اسی لیے اب ایک واضح اور دوٹوک راستہ اپنایا جا رہا ہے۔ اس پالیسی کی کامیابی کا انحصار صرف اقدامات پر نہیں بلکہ ان کے تسلسل پر بھی ہے۔ پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کئی مؤثر پالیسیاں عدم تسلسل کے باعث اپنی افادیت کھو بیٹھیں۔
موجودہ حکمتِ عملی کو وقتی مہم کے بجائے ایک مضبوط ادارہ جاتی فریم ورک میں ڈھالنا ضروری ہے تاکہ یہ دیرپا اور مؤثر ثابت ہو سکے۔پاکستان اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ اگر ریاست اسی عزم اور تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتی رہی تو نہ صرف داخلی سلامتی مضبوط ہوگی بلکہ ایک مستحکم، خودمختار اور باوقار ریاست کی بنیاد بھی مزید مضبوط ہو جائے گی۔
یہ محض ایک پالیسی نہیں بلکہ ریاستی سوچ میں ایک بنیادی تبدیلی ہے، اور اگر یہ برقرار رہی تو آنے والے سال پاکستان کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔





