زیرو ٹالرنس کی طرف سفر، پاکستان میں نان اسٹیٹ ایکٹرز مکمل خاتمہ قریب

تحریر:۔ سید ابرار حیدر

ریاستِ پاکستان کے مجموعی منظرنامے میں ایک واضح اور فیصلہ کن تبدیلی اب کھل کر سامنے آ رہی ہے، جو محض بیانات یا اعلانات تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات کی صورت میں بھی نظر آ رہی ہے۔ اس دوٹوک اور مؤثر حکمتِ عملی میں ایک امید افزا پہلو بھی نمایاں ہے۔ ریاست اب ایک ’’ہارڈ اسٹیٹ‘‘ کے طور پر اپنی رٹ قائم کرنے کے لیے سنجیدہ اور متحرک دکھائی دیتی ہے۔

خاص طور پر نان اسٹیٹ ایکٹرز کے حوالے سے سخت اور غیر مبہم رویہ ماضی سے واضح انحراف کی نشاندہی کرتا ہے۔ طویل عرصے تک جاری رہنے والے ابہام اور وقتی ردعمل کے بعد اب ریاست اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ نان اسٹیٹ ایکٹرز کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ یہ طے ہو چکا ہے کہ ان کا کردار مکمل طور پر ختم کیا جائے گا اور کسی کو بھی ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

سکیورٹی فورسز کی جانب سے کالعدم تنظیموں کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائیاں، شدت پسند عناصر کا خاتمہ اور غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف سخت اقدامات اسی نئی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ اب وہ تمام عناصر جو ریاستی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں یا متوازی نظام قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، بلا امتیاز کارروائی کی زد میں ہیں۔

موجودہ مقتدرہ ’’فولادی‘‘ رویے کا عملی مظاہرہ کر رہی ہے اور اس کے اثرات بھی واضح ہیں۔ اعدادوشمار اس پالیسی کی سنجیدگی کو ظاہر کرتے ہیں، سالانہ 60 سے 70 ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا رہے ہیں، جبکہ ہر سال 1500 سے 2000 دہشت گرد ہلاک اور سیکڑوں گرفتار کیے جا رہے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان (TTP) سب سے بڑا خطرہ ہے، جبکہ بلوچستان میں بی ایل اے کے خلاف بھی بڑے پیمانے پر آپریشنز کیے گئے ہیں جن میں سینکڑوں شدت پسند مارے گئے۔

وہ گروہ جو ماضی میں ’’گڈ طالبان‘‘ کے نام سے برداشت کیے جاتے تھے، اب بلا امتیاز کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔ اب ریاست کے نزدیک کوئی ’’گڈ‘‘ یا ’’بیڈ‘‘ طالبان نہیں ہیں؛ دہشت گرد صرف دہشت گرد ہیں اور انہیں چن چن کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے سرحد پار اہداف کو نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست دفاعی حکمتِ عملی سے نکل کر جارحانہ پوزیشن اختیار کر چکی ہے، جو فتنوں کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ (CTD) ملک بھر میں سینکڑوں گرفتاریاں کر کے سلیپر سیلز کو ختم کر رہا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور تحریک انصاف سے جڑے عناصر کے خلاف کارروائیاں زیادہ تر انتظامی نوعیت کی رہی ہیں، جن میں گرفتاری اور ریاستی کنٹرول شامل ہے۔

یہ فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریاست مختلف نوعیت کے چیلنجز کے لیے الگ الگ حکمتِ عملی اختیار کر رہی ہے، تاہم مجموعی سمت ایک ہی ہے: زیرو ٹالرنس۔ اب ریاست کو کوئی بلیک میل نہیں کر سکے گا اور ریاست اپنی رٹ قائم کرے گی۔

پاکستان وقتی ردعمل سے نکل کر ایک مستقل اور مربوط حکمتِ عملی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ریاستی ادارے ’’انقلاب‘‘ کے بجائے ’’تدریج‘‘ کے اصول کو اپنائے ہوئے ہیں۔ جہاں طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ جمہوری عمل، عوامی رائے اور ووٹ کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔

یہی وہ راستہ ہے جس پر قائداعظم محمد علی جناحؒ نے ایک آئینی اور جمہوری ریاست کی بنیاد رکھی تھی۔ اسٹیبلشمنٹ کے رویوں میں بھی واضح تبدیلی دیکھی جا سکتی ہے۔ پالیسی سازی میں سنجیدگی، مشکل فیصلوں کا تسلسل اور ریاستی مفاد کو اولین ترجیح دینا ایک بڑے اسٹریٹجک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔

ماضی کے تجربات نے ریاست کو یہ سبق دیا ہے کہ ابہام اور دوہری پالیسی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے، اس لیے اب ایک واضح اور دوٹوک راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ اس پالیسی کی کامیابی کا دارومدار صرف اقدامات پر نہیں بلکہ ان کے تسلسل پر بھی ہے۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ کئی مؤثر پالیسیاں عدم تسلسل کی وجہ سے اپنی افادیت کھو بیٹھیں۔

موجودہ حکمتِ عملی کو وقتی مہم کے بجائے ایک مضبوط ادارہ جاتی فریم ورک میں ڈھالنا ناگزیر ہے تاکہ یہ دیرپا اور مؤثر ثابت ہو سکے۔پاکستان اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ اگر ریاست اسی عزم اور تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتی رہی تو نہ صرف داخلی سلامتی مضبوط ہوگی بلکہ ایک مستحکم، خودمختار اور باوقار ریاست کی بنیاد بھی مزید مضبوط ہو جائے گی۔

یہ محض ایک پالیسی نہیں بلکہ ریاستی سوچ میں ایک بنیادی تبدیلی ہے، اور اگر یہ برقرار رہی تو آنے والے برس پاکستان کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔

Scroll to Top