پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے اتوار کے روز ایک اہم پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ ملک میں جاری حالیہ علاقائی بحران اور حکومتی کفایت شعاری مہم کے پیشِ نظر پاکستان سپر لیگ (PSL 11) کے آئندہ میچز صرف دو مقامات پر تماشائیوں کے بغیر منعقد کیے جائیں گے۔
پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلمان نصیر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے بتایا کہ آپریشنز کو مزید بہتر بنانے اور اخراجات میں کمی کے لیے پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب بھی منسوخ کر دی گئی ہے جبکہ میچوں کے شیڈول میں بھی تبدیلی کی جا رہی ہے۔
محسن نقوی نے وضاحت کی کہ پی ایس ایل کے تمام میچز اب صرف کراچی اور لاہور کے دو مقامات پر کھیلے جائیں گے اور ابتدائی میچز تماشائیوں کے بغیر ہوں گے، جس کا مقصد عوامی نقل و حرکت کو محدود کرنا ہے۔ ٹکٹوں کی واپسی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جن شائقین نے پہلے سے ٹکٹ خرید لیے ہیں، انہیں رقم واپس کر دی جائے گی اور بورڈ اس زحمت پر ان سے معذرت خواہ ہے۔ اس کے علاوہ انتظامی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پی سی بی کا مستقل عملہ پی ایس ایل میں شرکت نہیں کرے گا، تاہم پارٹ ٹائم اسٹاف ٹیموں کے ساتھ کام جاری رکھ سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کی بہترین کرکٹ لیگز کی نئی رینکنگ جاری، پی ایس ایل کتنے نمبر پر ہے؟
چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ یہ فیصلے پی ایس ایل فرنچائز مالکان کے ساتھ مشترکہ اجلاس اور وزیرِ اعظم و پی سی بی کے پیٹرن ان چیف شہباز شریف سے مشاورت کے بعد کیے گئے ہیں۔ انہوں نے پی ایس ایل کے التواء کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ “ہم پی ایس ایل کو ملتوی نہیں کر سکتے کیونکہ یہ ایک بین الاقوامی برانڈ ہے اور اس میں غیر ملکی کھلاڑی شامل ہیں، لہذا ایونٹ اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق 26 مارچ سے ہی شروع ہوگا، تاہم میچوں کی نقل و حرکت کم کرنے کے لیے نیا شیڈول جلد جاری کر دیا جائے گا”۔
محسن نقوی نے مزید کہا کہ اگر پی ایس ایل کو ابھی ملتوی کیا جاتا تو مستقبل میں اسے کرانے کے لیے کوئی ونڈو دستیاب نہ ہوتی۔ موجودہ صورتحال (ایران، اسرائیل اور امریکہ کی جنگ) کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “ہم نہیں جانتے کہ یہ کشیدگی کب تک برقرار رہے گی، لیکن پی ایس ایل کا انعقاد ضروری ہے”۔ سیکیورٹی خدشات کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں سیکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے اور تمام متعلقہ ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔ انہوں نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ممکنہ خطرات کو وقت سے پہلے ہی ناکام بنا دیا گیا ہے اور وہ ان اداروں پر فخر کرتے ہیں جنہوں نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے پہلے ہی حفاظتی اقدامات مکمل کیے۔




