دوحہ:قطر انرجی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر(سی ای او) سعد الکعبی نے کہا ہےکہ ایران کے حملوں نے قطر کی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی پیداواری صلاحیت کو 5 سال کے لیے17 فیصد تک ختم کردیا ہے۔
غیر ملکی ایجنسی سے گفتگو میں سعد الکعبی نےکہا کہ ایرانی حملوں سے وہ تنصیبات متاثر ہوئیں جہاں سے 17 فیصد برآمدی ایل این جی تیار ہوتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: گیس فیلڈ پر حملہ،قطر نے 2ایرانی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیدیا
ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ تنصیبات کی مرمت میں تین سے پانچ سال لگ سکتے ہیں، مرمت کے اس کام پر 26 ارب ڈالرز لاگت آئے گی اور قطر کو ممکنہ طور پر پانچ سال کے لیے اٹلی، بیلجیئم، جنوبی کوریا اور چین کے لیے ایل این جی سپلائی کے معاہدوں کو معطل کرنا پڑسکتا ہے، معاہدے معطل کرنے کی یہ شق پہلے سے معاہدےکا حصہ ہوتی ہے۔
سعد الکعبی کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف قطر بلکہ عالمی توانائی منڈی کے لیے ایک بڑا بحران ثابت ہوسکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایل این جی برآمدات میں کمی سے قطر کو سالانہ ریونیو میں 20 بلین ڈالر کمی کا خدشہ ہے، تین سے پانچ سال تک مرمت کے دوران 12.8 ٹن ایل این جی کی سپلائی متاثر ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی حملے: عالمی مارکیٹ میں ہلچل ،آئل 119 ڈالر فی بیرل اضافہ
خیال رہے کہ قطر دنیا کو سب سے زیادہ ایل این جی برآمد کرنے والا ملک ہے۔مشرق وسطیٰ میں آئل اور گیس تنصیبات پر حملوں کے بعد دنیا بھر میں خام تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔
یورپ اور برطانیہ میں گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور مغربی میڈیا کے مطابق برطانیہ میں گیس کی قیمتوں میں 35 فیصد تک اضافہ دیکھا جارہاہے، ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے یورپ میں گیس کی قیمت تقریباً ڈبل ہوچکی ہے۔




