آبنائے ہرمز کی بندش، ٹرمپ کے پاس آپشنز محدود ہیں، سابق مریکی وزیر توانائی

امریکا کے سابق وائٹ ہاؤس توانائی مشیر باب مکنیلی نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی طویل بندش کا کوئی مؤثر پالیسی حل موجود نہیں ہے، صدر ٹرمپ کے پاس آپشنز محدود ہیں۔

باب مکنیلی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ فوجی نگرانی، تیل کے اسٹریٹجک ذخائر کا استعمال یا گیس ٹیکس میں کمی جیسے اقدامات محض عارضی اور ثانوی نوعیت کے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز استعمال کرنیوالے ممالک کو امریکی واسرائیلی سفیروں کو نکالنا ہوگا،پاسداران انقلاب

باب مکنیلی نے کہاکہ آبنائے ہرمز کی طویل بندش کا کوئی مؤثر پالیسی حل موجود نہیں، صدر ٹرمپ کے پاس آپشنز محدود ہیں، جن میں سے زیادہ تر یا تو علامتی ہیں یا غیر مؤثر، جبکہ کچھ فیصلے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔

باب مکنیلی نے کہا کہ اصل حل صرف یہی ہے کہ آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کو مکمل طور پر بحال کیا جائے، تاہم اگر امریکا فوری طور پر جنگ ختم کرنے کا اعلان بھی کر دے تو بھی اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ ایران آبنائے ہرمز کو کھول دے گا اور صورتحال معمول پر آ جائے گی۔

ان کے مطابق ایران اگر مسلسل یہ صلاحیت ظاہر کرتا رہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں جب چاہے جہازوں کو نشانہ بنا سکتا ہے تو وہاں سے عالمی بحری آمدورفت کو متاثر کرنے کے لیے یہی کافی ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں ایران کی 10 کشتیاں وجہاز تباہ کرنے کا دعویٰ

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دعوئوں کے باوجود آبنائے ہرمز کھلوانے میں ناکام ہیں اور چین ، جاپان ، فرانس سمیت دیگر ممالک سے مدد بھی طلب کی جو مسترد کردی گئی اور آبنائے ہرمز بدستور بند ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ ہو ریا ہے اور قطر پر ایرانی حملوں کے باعث ایل این جی کا بحران کا منڈلا آ رہا ہے۔

Scroll to Top