گیس فیلڈ پر حملہ،قطر نے 2ایرانی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیدیا

قطر نے ایرانی سفارت خانے کے ملٹری اور سکیورٹی اتاشیوں اور ان کے عملے کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم دیدیا۔

قطر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملٹری اور سکیورٹی اتاشیوں کے ساتھ ان کے عملے کو بھی ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے حکم دیا گیا ہے کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر قطر چھوڑ دیں۔

یہ بھی پڑھیں: دوحہ میں سائرن بج اٹھے ،قطر کے کئی علاقے خالی کرالئے،رابطہ نمبرز جاری

وزارت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایران کی بار بار ہونے والے حملوں کے نتیجے میں کیا گیا ہے۔

قطر کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا جب کشیدگی میں ڈرامائی اضافہ دیکھنے میں آیا جس دوران ایک ایرانی میزائل دوحہ کے شمال مشرق میں واقع راس لفان انڈسٹریل سٹی سے ٹکرا گیا۔

یہ وسیع صنعتی کمپلیکس دنیا کی سب سے بڑی مائع قدرتی گیس (LNG) پیدا کرنے کی سہولت رکھتا ہے۔

قطر انرجی نے تصدیق کی کہ اس حملے سے “بڑا نقصان” ہوا، تاہم تمام عملہ محفوظ رہا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

سول ڈیفنس کی ٹیمیں آگ پر قابو پانے کے لیے موقع پر پہنچ گئیں۔ یہ تنصیب عام طور پر دنیا کی تقریباً 20 فیصد ایل این جی پیدا کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران نے تل ابیب پر میزائلوں کی بارش کردی،2صیہونی ہلاک

یہ پیشرفت دو ممالک کے درمیان اب تک کی سب سے شدید دراڑ کی نشاندہی کرتی ہیں، جو دہائیوں سے خلیج میں مضبوط شراکت داری رکھتے تھے اور مشترکہ گیس فیلڈ کی وجہ سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔

اسرائیل، امریکا کی ایران سے جنگ کے دوران قطر سے سب سے زیادہ سفارتی کوششیں کی لیکن ایران کی جانب سے ہر روز ہی قطر سمیت خلیجی ممالک پر تواتر سے حملے کئے جا رہے ہیں۔

Scroll to Top