جسم میں کرنٹ دوڑنے اور رونگٹے کھڑے ہونے کا اصل راز: ماہرین کی دلچسپ توجیہات

اسلام آباد: اکثر اوقات اچانک کسی خطرے، خوشی یا جذباتی لمحے میں جسم میں ایک عجیب سی لہر محسوس ہوتی ہے جسے سائنسی زبان میں ’پائلو اِریکشن‘ (Piloerection) کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دراصل انسانی جسم کا ایک فطری اور قدرتی ردِعمل ہے جو مختلف حالات اور جذبات کے تحت ظاہر ہوتا ہے۔

خوف اور خطرے کا احساس:

رونگٹے کھڑے ہونے کی ایک بڑی وجہ خوف ہے۔ جب انسان اچانک کسی خطرے کو محسوس کرتا ہے تو جسم میں مخصوص ہارمونز خارج ہوتے ہیں۔ یہ ہارمونز دل کی دھڑکن کو تیز کر دیتے ہیں اور پورے جسم میں ایک سنسناہٹ محسوس ہوتی ہے جس کے نتیجے میں بال کھڑے ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ڈی سی مظفرآباد کے دفتر میں فیزیبلٹی رپورٹ التوا کا شکار: ڈیری فارمرز کا ریاست گیر احتجاج کا انتباہ

شدید جذبات اور خوشی:

صرف خوف ہی نہیں بلکہ شدید جذبات جیسے بے حد خوشی یا گہرا دکھ بھی اس کیفیت کا باعث بنتے ہیں۔ اچانک کوئی بڑی خوشخبری ملنا یا کسی تکلیف دہ لمحے کا سامنا کرنا بھی انسان کے رونگٹے کھڑے کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نتائج کا انتظار، محبت کا اظہار یا زندگی کے کسی بڑے اور اہم لمحے کا سامنا کرتے وقت بھی جسم یہی ردِعمل دکھاتا ہے۔

فن اور روحانیت کا اثر:

دلچسپ بات یہ ہے کہ کوئی دلچسپ کہانی سنتے، خوفناک منظر دیکھتے، پسندیدہ گانا سنتے یا کوئی اچھی کتاب پڑھتے ہوئے بھی جب جذباتی کیفیت بڑھتی ہے تو جسم میں کرنٹ سا دوڑ جاتا ہے۔ خاص طور پر قرآن پاک کی تلاوت سننے کے دوران جب کوئی لمحہ دل کو گہرائی سے چھو لے تو یہ کیفیت کثرت سے محسوس کی جاتی ہے۔

موسمی اثرات اور جسمانی حالت:

ماہرین کے مطابق جب انسان کو اچانک سردی لگے تو ٹھنڈک سے بچاؤ کے لیے بھی جلد کے بال کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بیماری یا بخار کی صورت میں جب ٹھنڈ محسوس ہو تو جسم میں کپکپی کے ساتھ یہ فطری علامت ظاہر ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں: عام درد کش ادویات کیا نقصان پہنچا سکتی ہیں؟ ماہرین نے خبردار کر دیا

مختصراً یہ کہ رونگٹے کھڑے ہونا انسانی دماغ اور جسم کے باہمی تعلق کی ایک ایسی علامت ہے جو حیرت، خوشی، خوف یا کسی بھی شدید جذباتی لہر کے نتیجے میں سامنے آتی ہے۔

Scroll to Top