ڈیری ایسوسی ایشن مظفرآباد کے ایک اہم اجلاس میں ڈیری فارمنگ کی صنعت کو درپیش سنگین مسائل پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق دودھ اور دہی کے نرخوں سے متعلق تیار کردہ فیزیبلٹی رپورٹ گزشتہ چار ماہ سے ڈپٹی کمشنر مظفرآباد کے دفتر میں التوا کا شکار ہے، جسے ایسوسی ایشن نے ایک ظالمانہ روش قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس تاخیری حربے نے مقامی ڈیری انڈسٹری کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کر دیا ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صنعت مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ڈیری فارمرز نے چار ماہ قبل محکمہ امورِ حیوانات کو درخواست دی تھی کہ موجودہ سرکاری نرخ اخراجات کے مقابلے میں انتہائی کم ہیں جس سے فارمرز کا گزارہ ناممکن ہو چکا ہے۔ محکمہ امورِ حیوانات نے مکمل تحقیق کے بعد ایک تفصیلی فیزیبلٹی رپورٹ تیار کر کے ڈی سی مظفرآباد کے دفتر بھجوائی تھی، مگر تاحال اس پر کوئی عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ ڈیری ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے کیمیکل ملے اور زہریلے دودھ کی فروخت روکنے کے لیے فوری کارروائی کریں تاکہ شہریوں کو خالص دودھ کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: وقفے وقفے سے بارشوں کا نیا سلسلہ شروع! بادل کب تک برسیں گے؟ محکمہ موسمیات نے بڑی نوید سنا دی
ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ ماہِ رمضان کے تقدس اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے رضاکارانہ طور پر اس ماہ میں قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا تاکہ عوام پر اضافی مالی بوجھ نہ پڑے۔ تاہم، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ 50 سے 55 روپے فی لیٹر کے بڑے اضافے نے ڈیری فارمنگ کے بحران کو شدت دے دی ہے۔ مظفرآباد میں جانوروں کا ونڈا، چارہ اور ادویات مقامی طور پر دستیاب نہیں ہوتیں اور انہیں باہر سے منگوانا پڑتا ہے، جس پر ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے کرایوں نے فارمرز کی کمر توڑ دی ہے۔
اجلاس کے شرکاء کا کہنا تھا کہ ڈبہ پیک دودھ بنانے والی کمپنیاں پہلے ہی 380 روپے فی لیٹر تک دودھ فروخت کر رہی ہیں اور مزید 20 فیصد اضافے کا مطالبہ کر رہی ہیں، جبکہ مقامی فارمرز کو جائز منافع سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔ ضلع مظفرآباد میں تقریباً 80 اور شہر کے اندر بلدیہ ریکارڈ کے مطابق 55 رجسٹرڈ ڈیری فارمرز کام کر رہے ہیں جن سے ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ ہے۔ ایسوسی ایشن نے انتباہ دیا ہے کہ اگر عیدالفطر کے فوراً بعد مہنگائی کے تناسب سے نرخوں میں معقول اضافہ نہ کیا گیا تو وہ ریاست گیر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔




