اسلام آباد:وزارتِ خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت ایشیائی ترقیاتی بینک سے 50 کروڑ ڈالر کے مساوی نیا قرض حاصل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق یہ قرض بنیادی طور پر سرکاری پنشن نظام میں اصلاحات اور اس کے مالی بوجھ کو کم کرنے کے لیے لیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم یوتھ لون پروگرام ،35ہزار درخواستیں، مارچ میں قرضے جاری کرنے کا فیصلہ
حکام کے مطابق وفاقی حکومت کا سالانہ پنشن بل اس وقت 1055 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، اور نئے قرض کا مقصد سرکاری پنشن اخراجات پر مؤثر قابو پانا ہے۔
اس سلسلے میں وزارتِ خزانہ نے منصوبے کا نام “ٹرانسفارمنگ پبلک سیکٹر پنشن پروگرام” رکھا ہے، جس کے تحت سرکاری اداروں میں تربیتی اور آگاہی پروگرام شروع کیے جائیں گے تاکہ ملازمین اور انتظامیہ دونوں کو نئے نظام کے بارے میں مکمل آگاہی حاصل ہو۔
وزارت کے حکام نے بتایا کہ پنشن نظام میں گورننس اور نگرانی کے نظام کو بھی مضبوط بنایا جائے گا تاکہ مستقبل میں مالی بوجھ میں کمی لائی جا سکے اور نظام زیادہ شفاف اور مستحکم ہو۔
اس کے علاوہ طے شدہ کنٹری بیوٹری پنشن اسکیم کی نگرانی کو بھی بہتر بنایا جائے گا تاکہ سرکاری ملازمین کو پائیدار اور منظم پنشن فراہم کی جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اصلاحات نہ صرف موجودہ مالی بوجھ کو کم کرنے میں مدد دیں گی بلکہ مستقبل کے لیے ایک مضبوط اور مستحکم پنشن نظام قائم کرنے میں بھی معاون ہوں گی۔
نئے منصوبے کے تحت تمام متعلقہ اداروں اور ملازمین کو تربیت دی جائے گی اور آگاہی مہم کے ذریعے نئے نظام کی کامیابی کو یقینی بنایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے مارچ کی تنخواہ اور پنشن وقت سے پہلے دینے کا اعلان کر دیا
اس اقدام کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ سرکاری ملازمین کے لیے پنشن نظام زیادہ شفاف، مؤثر اور دیرپا ہو جائے گا، اور حکومت کے مالیاتی بوجھ میں بھی کمی آئے گی۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ منصوبے کا مقصد پائیدار اور جدید پنشن نظام کے ذریعے سرکاری ملازمین کے حقوق کو یقینی بنانا اور مالی استحکام قائم رکھنا ہے۔




