واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں ایران کو ’’شیطانی سلطنت ‘‘ قرار دیا اور کہا ہے کہ عالمی تیل کی قیمتیں جلد ہی اتنی کم ہو جائیں گی کہ کسی کو اس کا اندازہ بھی نہیں ہوگا ۔
انہوں نے زور دیا کہ ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنا اور مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ تباہی سے بچانا امریکی ترجیحات میں شامل ہے ۔ ٹرمپ کے مطابق تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں امریکہ کیلئے مالی فائدے کا ذریعہ ہیں، تاہم وہ جلد ہی مارکیٹ میں کمی دیکھنے کی توقع رکھتے ہیں ۔
صدر ٹرمپ نے مزید بتایا کہ 32 ممالک نے اپنے تیل کے ذخائر عالمی مارکیٹ میں جاری کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس سے قیمتوں میں نمایاں کمی آنے کا امکان ہے ۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ عالمی تیل کی سپلائی متاثر نہ ہو اور توانائی کی مارکیٹ میں استحکام قائم رہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ کئی روز سے کوشش میں ہیں کہ جنگ بندی کا اعلان ہو، ایرانی جنرل کا بڑا دعویٰ
دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے سمندر میں موجود روسی تیل کی خریداری کے لیے عارضی اجازت نامہ جاری کیا ہے ۔ اس اقدام کا مقصد عالمی سپلائی چین کو سہارا دینا اور توانائی کی عالمی قیمتوں میں توازن قائم رکھنا بتایا گیا ہے ۔
ایران کی جانب سے امریکی اقدامات پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کو خام تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچنےکیلئے تیار رہنا چاہیے ۔ ایرانی حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ، اسرائیل یا ان کے اتحادیوں تک تیل کی فراہمی ہر صورت ممکن نہیں ہوگی اور اگر ان کے مفادات کو نقصان پہنچا تو وہ تیل کی عالمی ترسیل روکنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں ۔
یہ بیانات عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی پیدا کر سکتے ہیں کیونکہ امریکہ کی کوششیں قیمتوں کو مستحکم رکھنے کی ہیں، جبکہ ایران کی دھمکیوں سے عالمی سپلائی میں عدم استحکام کا خطرہ موجود ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایرانی قوم ٹرمپ کی کھوکھلی دھمکیوں سے ڈرنے والی نہیں، علی لاریجانی
ماہرین کے مطابق اوپیک ممالک کی سپلائی بڑھانے کے فیصلے اور ایران کی جارحانہ پالیسی کے درمیان توازن کی صورتحال آنے والے ہفتوں میں تیل کی قیمتوں پر اثر ڈال سکتی ہے ۔




