آزادکشمیر کی عدلیہ میں بھی کفایت شعاری پالیسی نافذ، چیف جسٹس کی زیرصدارت اجلاس میں بڑے فیصلے

مظفرآباد:چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر/چیئرمین جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی راجہ سعید اکرم خان نے جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے غیر معمولی اجلاس کی صدارت کی۔

اجلاس میں جناب جسٹس رضا علی خان سینئر جج سپریم کورٹ، چیف جسٹس ہائی کورٹ جسٹس سردار لیاقت حسین اور جسٹس سید شاہد بہار سینئر جج ہائیکورٹ نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی زیر صدارت قومی کفایت شعاری پالیسی اجلاس ، تنخواہوں، مراعات میں کمی کا عندیہ

چیف جسٹس ہائی کورٹ راولاکوٹ سرکٹ سے ویڈیو لنک پر اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس کی باقاعدہ کارروائی کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔

سیکرٹری قانون، انصاف و پارلیمانی امور ڈاکٹر ادریس عباسی نے یک نکاتی ایجنڈے پر اجلاس کو بریف کیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں پوری دنیا اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان بھی معاشی لحاظ سے متاثر ہو رہا ہے اور غیر معمولی صورتحال کے پیش نظر قومی مفاد میں اہم ترین فیصلے وقت کی ضرورت ہیں۔

اجلاس میں جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی نےمتفقہ طور پر فیصلے کئے جو فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے۔ اجلاس میں اگلے دو ماہ کے لئےریاست کی عدلیہ کے تمام جج صاحبان، سابق جج صاحبان اور آٖفیسران کے زیر استعمال گاڑیوں کے لئے مقرر شدہ ایندھن کی حدمیں پچاس فیصد کمی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں سپریم کورٹ، ہائی کورٹ میں ہفتے میں صرف چار ایام مقدمات کی سماعت کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان ناگزیر صورت میں سکیورٹی کے لئے گاڑیاں استعمال کر سکیں گے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ میں جمعہ اور ہفتہ کے دن عدالتی دفاتر ملازمین کی پچاس فیصد حاضری کے ساتھ کھلے رہیں گے جبکہ ماتحت عدلیہ میں ہفتہ کے دن تعطیل ہو گی۔

اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ اعلیٰ عدلیہ میں جمعہ کے دن سماعت نہ ہونے کی وجہ سے اس دن کے مقدمات ہفتہ کے دیگر چار ایام میں ایڈجسٹ کئے جائیں گے جبکہ ماتحت عدلیہ میں ہفتہ کے دن تعطیل کی وجہ سے اس دن مقرر شدہ مقدمات کو بغرض سماعت ہفتے کے دیگر ایام میں ایڈجسٹ کیا جائے گا تاکہ فراہمی انصاف میں تاخیر نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں: تمام وزرا ،سرکاری افسران کو کفایت شعاری اختیار کرنا ہوگی، وزیراعظم

اسی طرح سرکٹ بینچوں میں ویڈیو لنک کے ذریعے مقدما ت کی سماعت کی جائے گی تاکہ فوری فراہمی انصاف کو یقینی بنایا جائے اور ٹور کی صورت میں اٹھنے والے ایندھن اور دیگر اخراجات میں بچت ہو سکے۔

سرکٹ بینچوں میں ٹور کے دوران تمام آفیسران اور عملہ الگ الگ گاڑیوں میں سفر کے بجائے ایک ہی گاڑی میں سفر کریں گے۔ جملہ ججز صاحبان اعلیٰ عدلیہ اور ماتحت عدلیہ ٹور کے دوران سفر خرچ حاصل نہیں کریں گے۔

اجلاس میں کئے گئے فیصلے فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے۔ اجلاس کے آخر میں چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر نے تمام شرکائے اجلاس کا شکریہ ادا کیا۔

Scroll to Top