سماہنی(تحصیل رپورٹر) سب ڈویژن سماہنی میں لائن آف کنٹرول پر 22 سالہ نوجوان حمزہ یوسف انڈین آرمی کی جارحیت کا نشانہ بن گیا۔۔
بدھ کی سہ پہر حمزہ یوسف پالتو جانوروں کو لائن آف کنٹرول کے قریب واپس لانے کے لیے گیا تب انڈین آرمی نے گولی ماردی گئی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاسپورٹ دفاتر کے اوقات کار تبدیل،نیا شیڈول جاری
بھارتی فوج نے ڈیڈ باڈی تحویل میں لیکر 22 سالہ نوجوان حمزہ یوسف کو دہشتگرد کے طور پر علاقائی و نیشنل میڈیا پر پروپگنڈہ کے طور پر پیش کیا۔۔
حمزہ یوسف اپنے والد محمد یوسف کے ہمراہ پبلک ٹرانسپورٹ گاڑی پر ہیلپر تھا اور شریف النفس انسان تھا ۔ادھر لائن آف کنٹرول پر کھمباہ ویلی کے گاؤں میلہ میں نوجوان کی شہادت پر کہرم برپا ہوگیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:گورنر شپ سے کس نے کس کے کہنے پر ہٹایا سب جانتا ہوں، کامران ٹیسوری
مقامی آبادی کی جانب سے ہندوستان کی کھلی جارحیت پر احتجاج کیا جا رہا ہے شہید نوجوان کے والدین، عوام علاقہ نےعسکری حکام، وزارت داخلہ، اقوام متحدہ، وزیراعظم کشمیر وپاکستان اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے انصاف کی اپیل کردی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم فیصل راٹھور کی زیرصدارت اہم اجلاس، مظفرآبادکی خوبصورتی ،انفراسٹریکچر پربریفنگ
اپیل میں کہا ہے کہ شہید نوجوان کا جسد خاکی کو واپس لانے کا اقدام اٹھایا جائے اور نہتی آبادی جو لائن آف کنٹرول سے متصل ہے کو تحفظ دیا جائے اور لائن آف کنٹرول پر انڈین آرمی کی جارحیت کا نوٹس لیا جائے۔




