اقوام متحدہ میں پاکستان کا دو ٹوک مؤقف، ایران پر حملوں کی مذمت اور روسی قرارداد کی حمایت

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس میں پاکستان نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر اپنا دو ٹوک اور اصولی مؤقف پیش کرتے ہوئے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملوں کی واضح الفاظ میں مذمت کی ہے اور خلیجی ریاستوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے بحرین اور روس کی جانب سے پیش کی جانے والی قراردادوں کی حمایت کی ہے۔ ان قراردادوں کا بنیادی مقصد خطے میں فوجی کشیدگی کو کم کرنا اور تمام مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالنا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران پر حالیہ حملوں نے نہ صرف اس خطے بلکہ پورے عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے، اس لیے کشیدگی کم کرنا اب وقت کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ، پاکستانی مندوب کا بھارت و افغان نمائندوں کو کرارا جواب، انتباہ بھی دیدیا

عاصم افتخار نے زور دیا کہ خلیجی ممالک اور پڑوسی ریاستوں کی سرزمین پر حملے فوری طور پر بند ہونے چاہئیں کیونکہ ایسی کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑی اور تباہ کن جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقین سے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔ پاکستانی مندوب نے اس بات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا کہ متحدہ عرب امارات پر ایرانی حملوں کے نتیجے میں 2 پاکستانی شہری بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات انسانی المیے کا سبب بنتے ہیں اور عام شہریوں کو براہ راست نقصان پہنچاتے ہیں۔

پاکستان نے خلیجی ممالک کی حکومتوں اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کو جنگ کے بدترین نتائج کا سامنا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ عاصم افتخار کے مطابق روسی فیڈریشن کی قرارداد مثبت ہے کیونکہ یہ اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق تیار کی گئی ہے اور فوجی سرگرمیاں بند کر کے مذاکرات شروع کرنے پر زور دیتی ہے۔

سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران ایران کی جانب سے پڑوسی ممالک پر حملوں کے خلاف پیش کی گئی قرارداد منظور کر لی گئی، جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ خلیجی ریاستوں پر حملے بند کرے اور استحکام کے لیے کام کرے۔ تاہم، روس کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی قرارداد منظور نہ ہو سکی۔ اس قرارداد کے حق میں 4 ووٹ آئے، 2 ارکان نے مخالفت کی جبکہ 9 ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

مزید پڑھیں: اقوام متحدہ اجلاس: کشمیری وفد کامقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر عالمی کارروائی کا مطالبہ

پاکستان نے ایک بار پھر عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ اگر فوری سفارتی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ تنازع عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔ پاکستان نے عالمی برادری سے پائیدار امن کے لیے اپنا فعال کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Scroll to Top