جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا ہنگامی آن لائن اجلاس ہوا جس میں حکومت کی وعدہ خلافیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا، اجلاس میں دوبارہ سے سڑکوں پر آنے کا عندیہ دیا گیا جبکہ انتخابات کے حوالے سے بھی آئندہ اجلاس کیں حتمی فیصلہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے شعبہ نشرو اشاعت کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق آن لائن ہنگامی اجلاس میں شرکاء نے کہا کہ 2 فروری کے اجلاس میں کیے گئے وعدوں کے باوجود تاحال ای سی ایل اور پی سی ایل میں شامل تحریکی ساتھیوں کے نام نہیں نکالے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ایکشن کمیٹی کا رویہ مثبت،مسائل کا پائیدارحل صرف مذاکرات کے ذریعے ممکن،انجینئر امیر مقام
کور کمیٹی کے ممبر مجتبیٰ بن فیض فاروقی کو عمرہ کیلئے بیرون ملک جانے سے روکنا اس کی واضح مثال ہے۔
اجلاس میں حکومت کو متنبہ کیا گیا کہ اگر بلاک شدہ پاسپورٹس فوری بحال نہ کئے گئے اور کارکنوں کے نام ای سی ایل سے نہ نکالے گئے تو 30 مارچ کو ہونے والے اجلاس میں اس مسئلے کو خصوصی طور پر زیر بحث لا کر احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا جائیگا۔
انتخابات میں حصہ لینا ہے یا نہیں؟ اجتماعی فیصلہ کرنے کا اعلان
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے واضح کیا کہ انتخابات کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، اس بارے میں پالیسی آئندہ اجلاس میں جاری کی جائے گی۔
ایکشن کمیٹی رہنمائوں کا کہنا تھا کہ ہم تحریک کے ساتھ چلنے والے ساتھیوں کی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ساتھ یہ کہنا چاہتے ہیں کے الیکشن کے بارے میں اجتماعی فیصلہ لینے کی ضرورت ہے۔انفرادی فیصلے تحریک کے لئے باعث نقصان ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا الیکشن رکوانے کا مطالبہ اور آزاد کشمیر کا قانون: کیا احتجاج سے الیکشن رک سکتے ہیں؟
اجلاس میں چیئرمین عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان احسان علی ایڈووکیٹ اور دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کی بھرپور مذمت کی گئی اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔




