نادرا حکام کابڑا اقدام، 42 لاکھ شناختی کارڈ منسوخ،اہم ہدایات جاری

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) پاکستان نیشنل ڈیٹا بیس (نادرا ) نے قومی شناختی نظام کی مکمل درستی کیلئےاہم قدم اٹھالیا۔

سول رجسٹریشن ریکارڈ اور قومی شہری ڈیٹابیس کے درمیان مطابقت کا کام مکمل ہونے کے بعد 42 لاکھ ایسے شناختی کارڈ منسوخ کردیئے گئے جو لواحقین منسوخ نہ کرواسکے

مزید یہ بھی پڑھیں:مجتبیٰ فاروقی اسلام آباد ایئرپورٹ سےحراست میں لے لیا،عوامی ایکشن کمیٹی کا اجلاس طلب

تفصیلات کے مطابق سول رجسٹریشن نظام اور نادرا کے نظام میں مطابقت کے بعد مرنے والے افراد کے شناختی کارڈ منظر عام پر آئے جس پر نادرا آرڈیننس اور شناختی کارڈ رولز کے تحت اقدام اٹھاتے ہوئے 42 لاکھ شناختی کارڈ منسوخ کردیئے

نادرا حکام کے مطابق مرنے والے شہریوں کے لواحقین نے صوبائی اداروں میں تو ان کی رجسٹریشن کروادی مگر نادرا ریکارڈ میں ابھی تک اپ ڈیٹ نہیں ہوسکا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ایرانی قوم ٹرمپ کی کھوکھلی دھمکیوں سے ڈرنے والی نہیں، علی لاریجانی

نادرا کے مطابق نادرا کے حالیہ معاون اقدامات پر 30 لاکھ افراد کے لواحقین نے شناختی کارڈ منسوخ کرائے، 42 لاکھ شناختی کارڈز سول رجسٹریشن نظام میں وفات کے اندراج کے باوجود فعال رہے۔

شناختی کارڈ منسوخ نہ ہونے سے قومی اعدادوشمار عدم مطابقت کا شکار ہوتے ہیں، بعض اوقات غلطی یا بدنیتی سے بھی کوئی رشتہ دار شناختی کارڈ منسوخ کرا دیتے ہیں۔۔

مزید یہ بھی پڑھیں:کوٹلی : 1275 مستحق خاندانوں میں 1کروڑ 91 لاکھ روپے سے زائد امدادی چیک تقسیم

غلطی سے شناختی کارڈ منسوخی پر نادرا سے رابطہ کر کے یونین کونسل کی معلومات لی جائے اور یونین کونسل میں درستی کرائی جائے اور نادرا میں ریکارڈ اپ ڈیٹ کرایا جائے۔

نادرا کیمطابق ایک کروڑ 40 لاکھ بچوں کی پیدائش کا اندراج یونین کونسل میں ہو چکا ہے لیکن نادرا میں نہیں ہوا۔۔

نادرا ایسے بچوں کے والدین یا سرپرستوں کو یاددہانی کے ایس ایم ایس بھجوا رہا ہے، ایسے بچوں کے والدین جلد ازجلد نادرا سے ان کے ب فارم بنوائیں۔

Scroll to Top