لاہور(کشمیر ڈیجیٹل) پنجاب حکومت نے پٹرول کی بڑھتی قیمت کے بوجھ سے غریب اور متوسط گھرانوں کو بچانے کیلئے تعلیمی ادارے کچھ روز کیلئے بند کروا دیئے ۔۔
سابق صوبائی نگراں وزیر ٹرانسپورٹ ابراہیم مراد نے طلباء وطالبات کیلئے خصوصی ’’فیول کارڈ‘‘ سسٹم متعارف کروانے کی تجویز دے دی۔
وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر کے بڑے اضافے کے بعد سابق صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ ابراہیم مراد نے طلبہ کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ایک اہم تجویز پیش کر دی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر بھر میں ریسکیو1122 کے ملازمین سڑکوں پر آگئے، حکومت کو الٹی میٹم
ابراہیم مراد نے بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے طلبہ کے لیے “فیول کارڈ” سسٹم جاری کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
ابراہیم مرادکی تجویز یہ ہے کہ موٹر سائیکل رکھنے والے ہر طالب علم کو ماہانہ بنیادوں پر 10 لیٹر سستا (سبسڈائزڈ) پیٹرول فراہم کیا جائے۔
ابراہیم مراد کا اندازہ ہے کہ ان کی تجویز پر عمل کرنے پر ماہانہ تقریباً 10 ارب روپے کی لاگت آئے گی۔
اس سے پنجاب کے لاکھوں طلبہ براہِ راست مستفید ہوں گے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے طلبہ کیلئے تعلیمی اداروں تک رسائی مشکل بنا دی ہے
مزید یہ بھی پڑھیں:بچوں کو یتیم نہیں کر سکتے، سپریم کورٹ نے ’سزائے موت‘ سے متعلق بڑا فیصلہ دیدیا
پنجاب حکومت نے تمام سکول، کالج اور یونیورسٹیاں بند کرنے اور آن لائن تعلیم سے کام چلانے کا حکم جاری کر دیا۔
پنجاب میں 1 کروڑ 70 لاکھ موٹر سائیکلیں ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ رجسٹریشن ہو چکی موٹر سائیکلوں میں سے کتنی سٹوڈنٹس کے زیر استعمال ہیں کیونکہ زیادہ موٹر سائیکلیں گھرانوں کے سربراہ اپنے نام سے رجسٹرڈ کرواتے ہیں، انہیں استعمال خواہ کوئی بھی کرے۔
سرکاری ریکارڈ میں ان کے مالک کاروبار یا ملازمت کرنے والے لوگ ہی ہیں۔ حکومت نے 7 مارچ 2026 سے پیٹرول کی قیمت میں 55 روپے اضافہ کیا ہے۔
لیکن اصل پریشانی یہ ہے کہ فیول کی قیمتیں مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ حکومت کے مطابق ایران کی جنگی صورتحال اور عالمی منڈی میں پیدا ہونے والے بحران کی وجہ سے قیمتوں میں 17 فیصد اضافہ ناگزیر تھا۔
اس اضافہ کے بعد سے صورتحال مزید خراب ہوتی جا رہی ہے۔ حکومت پٹرول، ڈیزل کی قیمت پر نظر ثانی ہر ہفتے کرے گی۔




