مظفرآباد،میرپور(کشمیر ڈیجیٹل)آزاد کشمیر کے مظفرآباد میں ریسکیو 1122 کے ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج شروع کر دیا ہے۔
ریسکیواہلکاروں کا کہنا ہے کہ وہ خطرناک حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں اور پاکستان کے دیگر صوبوں کی طرح انہیں بھی ریسک الاؤنس دیا جانا چاہیے۔
اہلکاروں نے اعلان کیا ہے کہ ریسک الاؤنس کی منظوری یا نوٹیفکیشن جاری ہونے تک احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہیں ہوئے تو احتجاج کا دائرہ مزید بڑھا دیا جائے گا۔
آزاد کشمیر بھر کی طرح میرپور میں بھی ریسکیو 1122 کے ملازمین نے رسک الاؤنس نہ ملنے کے خلاف احتجاج کیا۔
کشمیر پریس کلب میرپور کے باہر ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں ایمرجنسی سروسز کے درجنوں اہلکاروں نے شرکت کی اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ ریسکیو اہلکار ہر قسم کی ہنگامی صورتحال، ٹریفک حادثات، آتشزدگی اور قدرتی آفات کے دوران اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر عوام کی خدمت کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں رسک الاؤنس جیسی بنیادی سہولت فراہم نہیں کی جا رہی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:صوبائی وزراء کو مفت پیٹرول، ڈیزل کی فراہمی بند، پروٹوکول پر بھی پابندی عائد
ریسکیو ملازمین نے کہا کہ پنجاب اور پاکستان کے دیگر صوبوں میں ریسکیو اہلکاروں کو رسک الاؤنس دیا جا رہا ہے، اس لیے آزاد کشمیر میں بھی اسی طرز پر فوری طور پر رسک الاؤنس منظور کیا جائے۔
مظاہرین کا مزید کہنا تھا کہ وہ دن رات عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی خدمات سرانجام دیتے ہیں، مگر بدقسمتی سے ان کی اپنی زندگیوں کے تحفظ اور مالی سہولیات کے حوالے سے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ ملازمین کے مطابق رسک الاؤنس نہ ہونے کی وجہ سے انہیں شدید مالی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔
احتجاج کے دوران ریسکیو اہلکاروں نے حکومت آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا کہ انہیں رسک الاؤنس، بہتر سروس اسٹرکچر اور دیگر مراعات فراہم کی جائیں تاکہ وہ مزید جذبے اور اطمینان کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔
مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے جائز مطالبات جلد تسلیم نہ کیے گئے تو وہ احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے اور پورے آزاد کشمیر میں احتجاجی تحریک شروع کی جا سکتی ہے۔
ملازمین کی جانب سے آزادی چوک میں دھرنا جاری ہے، جہاں ریسکیو اہلکار اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جانوں کو خطرے میں ڈال کر خدمات انجام دینے کے باوجود انہیں رسک الاؤنس فراہم نہیں کیا جا رہا، جس کی وجہ سے ملازمین میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
جہلم ویلی میں بھی ریسکیو 1122 ملازمین رسک الاؤنس کی عدم ادائیگی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ریسکیو 1122 کے ملازمین نے رسک الاؤنس کی عدم ادائیگی کے خلاف ڈسٹرکٹ ایمرجنسی ریسکیو آفس 1122 کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا۔
احتجاج میں شریک ریسکیو اہلکاروں نے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی اور حکومت سے فوری طور پر رسک الاؤنس کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ ریسکیو 1122 ایک ایسا ادارہ ہے جو چوبیس گھنٹے عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے خدمات سرانجام دیتا ہے۔
ریسکیو اہلکار ہر قسم کے ہنگامی حالات، حادثات اور قدرتی آفات میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر عوام کی مدد کرتے ہیں۔
مگر اس کے باوجود انہیں دیگر سرکاری محکموں کے ملازمین کی طرح رسک الاؤنس فراہم نہیں کیا جا رہا۔
احتجاج میں شریک ملازمین نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ ریسکیو اہلکاروں کی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر رسک الاؤنس کی منظوری دے، تاکہ ان کے معاشی مسائل میں کمی آ سکے۔
مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات جلد تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا اور سخت احتجاجی لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔




