واشنگٹن:امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے امریکی شہریوں کو حراست میں لینے پر افغان پاسپورٹ ہولڈرز کے امریکہ داخلے پر پابندی کی وارننگ دیتے ہوئے افغان طالبان پر سخت تنقید کی ہے۔
رائٹرز کے مطابق روبیو نے ایک بیان میں کہا کہ وہ افغانستان کی طالبان حکومت کو ’’لوگوں کو ناجائز حراست میں رکھنے والی ریاست کے طور پر نامزد کر رہے ہیں۔
انہوں نے کابل سے مطالبہ کیا کہ وہ محمود حبیبی اور ڈینس کوائل سمیت ملک میں زیر حراست تمام امریکی شہریوں کو رہا کرے۔
انہوں نے کہا کہ طالبان دہشتگردی کے حربے استعمال کر رہے ہیں، تاوان کیلئے افراد کو اغوا کر رہے ہیں یا پالیسی رعایتیں حاصل کر رہے ہیں، ان مکروہ حربوں کو ختم ہونے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ غیر منصفانہ حراست میں لیے جانے کے خطرے کی وجہ سے افغانستان امریکیوں کے لیے ملک کا سفر کرنا محفوظ نہیں ہے۔
صورتحال سے واقف دو ذرائع نے بتایا کہ امریکہ پال اووربی کی باقیات کی واپسی کا بھی مطالبہ کر رہا ہے جو ایک مصنف ہے جسے آخری بار 2014 میں پاکستان کے ساتھ افغانستان کی سرحد کے قریب دیکھا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی وزیرستان،افغان طالبان کا تیسرا حملہ، نہتے شہریوں پر فائرنگ، ایک بچہ شہید،4زخمی
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے امریکی مطالبات کو پورا نہیں کیا تو امریکہ افغانستان کے سفر کے لیے امریکی پاسپورٹ کے استعمال پر پابندی لگا سکتا ہے۔ پاسپورٹ کی ایسی پابندی فی الحال صرف شمالی کوریا کے لیے ہے۔
رائٹرز کے مطابق افغانستان کی طالبان حکومت نے اس سے قبل حبیبی کو حراست میں لینے کی تردید کی ہے جو افغانستان کی سول ایوی ایشن کے سربراہ تھے۔




