مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل) ہیلتھ ملازمین آزادکشمیر کا احتجاج 24ویں روز بھی جاری رہا۔ ملازمین کی جانب سے روزانہ دو گھنٹے کی ہڑتال کی جا رہی ہے جو مطالبات کی منظوری تک جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔
سی ایم ایچ گیٹ مظفرآباد کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جہاں مقررین نے حکومت آزاد کشمیر سے فوری مذاکرات کا مطالبہ کیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:یواے ای: فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 2 اہلکار جاں بحق
مظاہرین نے وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور، وزیر صحت بازل علی نقوی اور اپوزیشن لیڈر شاہ غلام قادر سے اپیل کی کہ وہ ذاتی مداخلت کر کے ملازمین کے مسائل حل کریں۔
ملازمین نے احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے صدر عابد مغل، جنرل سیکرٹری عبید الرحمن، اقبال اعوان، رفیق چغتائی،عمران اعوان،خواجہ بلال نے کہا کہ محکمہ صحت کے ملازمین طویل عرصے سے اپنے جائز حقوق کیلئے آواز بلند کر رہے ہیں مگر تاحال شنوائی نہیں ہو رہی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ہیلتھ ملازمین کا احتجاج 24 ویں دن میں داخل، وزیراعظم فیصل راٹھور سے نوٹس لینے کا مطالبہ
انہوں نے کہا کہ اگر مطالبات منظور نہ کیے گئے تو احتجاج مزید سخت کیا جائے گا۔ملازمین کے اہم مطالبات میں شامل ہیں:ہیلتھ الاؤنس رننگ بیسک پے پر دیا جائے۔
تمام ملازمین کیلئے علیحدہ علیحدہ سروس اسٹرکچر تشکیل دیا جائے۔ڈرگ سیل الاؤنس کا اجرا سابقہ رولز کے مطابق کیا جائے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم کی زیر صدارت قومی کفایت شعاری پالیسی اجلاس ، تنخواہوں، مراعات میں کمی کا عندیہ
ہیلتھ ورکرز کی پنشن کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ہیلتھ کیئر الاؤنس فوری طور پر دیا جائے۔ہیلتھ فاؤنڈیشن کا قیام عمل میں لایا جائے۔جی پی ایف پر منافع دیا جائے۔
نرسز، الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز، سپورٹ اسٹاف، ہیلتھ ورکرز اور ایم سی ایچ ٹیکنیشنز کیلئے باقاعدہ سروس اسٹرکچر بنایا جائے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ دو گھنٹے کی روزانہ ہڑتال مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گی اور اگر حکومت نے سنجیدگی نہ دکھائی تو احتجاج کا راستہ اپنائیں گے۔




