تمام اداروں میں 50 فیصد ملازمین ورک فرام ہوم، ہفتے میں 4دن کام ہوگا،شہبازشریف

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت پورا خطہ جنگی صورتحال کی لپیٹ میں ہے۔

ملک اس وقت کشیدہ صورتحال سے گزر رہا ہے ، پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں ہے ۔ برادر ممالک سے رابطوں میں ہیں ۔ حالات یونہی بگڑتے رہے تو تیل کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہوجائے گا۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ روزمرہ زندگی کے معمولات خلیجی ممالک سے آنیوالے تیل پر ہے ، ۔ حالیہ دنوں میں جو تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ دل پر پتھر رکھ کر اضافہ کیا گیا ، قیمتیں بڑھانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:شرح سود میں کمی یا اضافہ؟سٹیٹ بینک کامانیٹری پالیسی سے متعلق اعلان

وزیراعظم شہبازشریف کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے کوشش کرکے درمیانی راستہ نکالا تاکہ عوام پر زیادہ بوجھ نہ پڑے ۔ مشکل ترین حالات میں  مشکل فیصلے کرکے ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ۔

وزیراعظم شہبازشریف کا مزید کہنا تھا کہ اگلے آنیوالے چند دنوں میں پٹرولیم قیمتیں مزید بڑھیں گی، جس میں اضافہ ناگزیر ہوگا۔ میری کوشش ہوگی کہ عوام پر قیمتوں کا بوجھ کم پڑے ۔

مسلح افواج سپہ سالار کی قیادت میں  اپنے ملک کے دفاع کیلئے ہر ممکن اقداما ت کررہی ہے ۔ سرکاری ملازمین کو ملنے والے پٹرول میں 50 فیصدکٹوتی کی جائے گی ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش: عید تعطیلات تک یونیورسٹیاں بند، نوٹیفکیشن جاری
وزیراعظم شہبازشریف کا قوم سے خطاب میں کہنا تھا کہ عوامی ریلیف کیلئے تین لاکھ سے زائد تنخواہ والے ملازمین کی دودن کی تنخواہ کی کٹوتی کی جائے گی ۔کابینہ ممبران ، وزیراعلیٰ ، وزاء ،سرکاری افسران کے دورں پر پابندی عائد کردی۔

وزیراعظم کا وفاقی اداروں میں ہفتے میں چار ورکنگ ڈیز کرنے اور وفاقی اداروں میں 50 فیصد ملازمین کیلئے ورک فرام ہوم کا اعلان ۔

حالات ٹھیک نہ ہوئے تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پھربڑھیں گی،عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کی کوشش کرینگے۔

ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 25فیصد کٹوتی کی جارہی ہے ۔وزیر ، مشیر، معاون خصوصی اگلے دو ماہ تنخواہ نہیں لیں گے ۔

وزیراعظم شہبازشریف کا مزید کہنا تھا کہ 3 لاکھ سے زائد تنخواہ لینے والے گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران کی دو دن کی تنخواہ کاٹنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

سرکاری عشائیوں ، افطار پارٹیوں پر پابندی عائد کردی گئی ۔ دوہ ماہ کیلئے کابینہ ممبران، وزراء س،سرکاری افسران دو ماہ کی تنخواہ نہیں لیں گے ۔

سرکاری اداروں کا 50 فیصد عملہ ورک فراہم ہوم کرے گا۔ فوری طور پر دوہفتوں کیلئے سکولوں میں چھٹیاں دی جارہی ہیں۔

ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 25فیصد کٹوتی ،وزیر ، مشیر، معاون خصوصی اگلے دو ماہ تنخواہ نہیں لیں گے

سعودی عرب ، عمان ، کویت، یواے ای اور بحرین پر ہونے والوں حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔ وزیر اعظم نے جنگی صورتحال کے باعث کفایت شعاری کے اضافی اقدامات کی منظوری دے دی۔

وفاقی اور صوبائی کابینہ کے تمام وزرا، مشیر، معاونین رضاکارانہ طور پر 2 ماہ کی تنخواہ اور الاونسز چھوڑیں گے، تمام سرکاری گاڑیوں کیلئے اگلے 2 ماہ تک ایندھن کی فراہمی میں 50 فیصد کی کمی کی جائے گی۔

Scroll to Top