دباؤ کے باوجود متوازن فیصلہ، زراعت و ٹرانسپورٹ کے تحفظ کیلئے کم بوجھ رکھا گیا،علی پرویز ملک

وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ موجودہ معاشی چیلنجز کے دوران کسی بھی حکومت کے لیے آسان فیصلے ممکن نہیں ہوتے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ نسبتاً کم رکھا گیا کیونکہ ڈیزل زراعت اور عوامی ٹرانسپورٹ کے لیے نہایت اہم ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:یقین دلاتے ہیں جیسے ہی عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی آئی اسکا فائدہ عوام تک پہنچائیں گے، رانا مشہودخان

انہوں نے کہا کہ پاکستان سالانہ تقریباً برابر مقدار میں پٹرول اور ڈیزل استعمال کرتا ہے، اس لیے پٹرول پر 105 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 55 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی عائد کرنے سے اوسطاً 80 روپے فی لیٹر لیوی بنتی ہے، یوں مجموعی طور پر لیوی میں عملی طور پر کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔

علی پرویز ملک نے خبردار کیا کہ اگر عالمی تیل کی قیمتوں کے موجودہ جھٹکے کو درست انداز میں نہ سنبھالا گیا تو 2022 جیسے حالات دوبارہ پیدا ہو سکتے ہیں

مزید یہ بھی پڑھیں:مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ سے پاکستان بھی متاثر،پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ ناگزیر تھا،مریم اورنگزیب

ان کا کہنا تھا کہ جب مارکیٹ فورسز میں مداخلت کے باعث پاکستان تقریباً ڈیفالٹ کے قریب پہنچ گیا تھا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ایران پر حملوں سے عالمی توانائی بحران پیدا ہوا، عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالنا ترجیح ہے، ثانیہ عاشق

انہوں نے کہا کہ ایسے قومی معاملات پر سیاست سے بالاتر ہو کر فیصلے کرنے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے تمام حلقوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔

Scroll to Top