طورخم بارڈر(کشمیر ڈیجیٹل)افغانستان کی حدود میں تورخم بارڈر کے قریب واقع تجارتی مارکیٹ میں ہفتہ کی علی الصبح لگنے والی ہولناک آگ میں 150 سے زائد دکانیں جل کر خاکستر ہو گئیں
تاہم ذرائع کے مطابق یہ آگ طالبان عناصر نے خود لگائی اور اب اس کا الزام پاکستان پر عائد کیا جا رہا ہے تاکہ دنیا کو بیچنے کے لیے ایک نیا سودا تلاش کیا جا سکے –
مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے حلقے میں افسوسناک واقعہ،سمگلرز ایڈیشنل ایس ایچ او سے اسلحہ اور جیکٹ چھین کر فرار
مقامی ذرائع کے مطابق واقعہ صبح تقریباً چار بجے پیش آیا جب مارکیٹ کے مختلف حصوں میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے درجنوں دکانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق تاجروں کو تقریباً 300 ملین افغانی کا نقصان پہنچا جس کے بعد طالبان حکام نے بغیر تحقیقات فوری طور پر پاکستان پر الزام عائد کردیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان مسلم لیگ (ن) ایک ویژن ،نظریے کا نام ہے: جمیلہ خاتون
سیکیورٹی ذرائع اس دعوے کو سراسر جھوٹ اور غلط قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ مارکیٹ افغان حدود میں واقع ہے اور یہ سوال اٹھتا ہے کہ پاکستانی فورسز سرحد عبور کر کے پورا بازار کیسے جلا سکتی ہیں ؟
مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ آگ لگنے سے کچھ دیر قبل علاقے میں طالبان کے مسلح اہلکاروں کی نقل و حرکت دیکھی گئی تھی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:عالمی دباؤ کے باوجود پاکستان میں پٹرولیم میں اضافہ محدود رکھا،سینیٹر طلال چوہدری
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ یہ آگ اندرونی کارروائی یا بدانتظامی کے نتیجے میں لگی ہو جس کے بعد الزام پاکستان پر ڈال کر سرحدی کشیدگی کو ہوا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ کئی گھنٹوں تک بھڑکتی رہی جس کے باعث تورخم کی مصروف تجارتی مارکیٹ مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور درجنوں تاجروں کا سرمایہ راکھ میں تبدیل ہو گیا۔




