ہائیکورٹ آزادکشمیر

تیرہویں آئینی ترمیم کی اہم شقیں ہائیکورٹ آزادکشمیر میں چیلنج

مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ مظفرآباد میں صدر ریاست کے انتخاب کے طریقہ کار اور آئین عبوری 1974 میں کی گئی تیرہویں آئینی ترمیم کے بعض پہلوؤں کیخلاف ایک اہم رِٹ پٹیشن دائر کر دی گئی ہے۔

یہ درخواست رکن آزاد کشمیر کونسل حنیف ملک نے اپنے وکلا راجہ امیر شریف ایڈووکیٹ ہائی کورٹ، راجہ سجاد احمد خان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، راجہ قاسم سجاد ایڈووکیٹ ہائی کورٹ اور محمد فیصل فاروق ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کے ذریعے عدالت عالیہ میں جمع کروائی ہے۔

درخواست گزار نے اپنی آئینی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ آئین عبوری آزاد جموں و کشمیر 1974 میں تیرہویں آئینی ترمیم کے ذریعے صدر ریاست کے انتخاب کے طریقہ کار میں جو تبدیلیاں کی گئیں وہ آئین کے بنیادی ڈھانچے اور قانونی تقاضوں کے منافی ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:عالمی کشیدگی کے اثرات: وزیراعظم کا 48 گھنٹوں میں سادگی اور بچت پر مبنی لائحہ عمل تیار کرنے کا حکم

رِٹ پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ تیرہویں ترمیم سے قبل صدر آزاد کشمیر کا انتخاب ایک مشترکہ انتخابی کالج کے ذریعے ہوتا تھا جس میں قانون ساز اسمبلی، کشمیر کونسل کے منتخب ارکان اور کونسل سیکرٹریٹ کے وفاقی وزیر شامل ہوتے تھے۔

تاہم بعد ازاں کی گئی ترمیم کے ذریعے اس نظام کو تبدیل کر کے انتخابی عمل کو صرف قانون ساز اسمبلی تک محدود کر دیا گیا جس کے نتیجے میں کشمیر کونسل کے ارکان سے ووٹ کا حق واپس لے لیا گیا۔

درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین میں اس نوعیت کی ترمیم کیلئے درکار قانونی طریقہ کار اور قواعد کی مکمل پابندی نہیں کی گئی اور بعض ترامیم وفاقی کابینہ کی منظوری کے بغیر شامل کی گئیں جس کے باعث یہ اقدامات آئین کے بنیادی ڈھانچے اور درخواست گزار کے بنیادی حقوق سے متصادم قرار پاتے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بلوچستان : سکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی، فتنہ الہندوستان کے 15 دہشتگرد ہلاک، ٹھکانے اڑا دیئے

درخواست گزار کے مطابق چونکہ کشمیر کونسل کا ادارہ اب بھی آئین میں موجود ہے اور اس کے ارکان آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں، اس لیے ان سے ووٹ کا حق واپس لینا غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام ہے۔

رِٹ پٹیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیراعظم پاکستان بطور چیئرمین کشمیر کونسل نے 2018 میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی تھی جس کا مقصد تیرہویں آئینی ترمیم کے قانونی اور آئینی اثرات کا جائزہ لینا تھا، تاہم یہ کمیٹی تاحال اپنی رپورٹ پیش نہیں کر سکی۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ مذکورہ کمیٹی کو اپنی سفارشات جلد مکمل کر کے پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔

درخواست میں عدالت عالیہ سے یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ آئین عبوری 1974 کے آرٹیکل 2 اور 5 میں کی گئی متنازع ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے یا اس معاملے کو دوبارہ غور کیلئے متعلقہ حکام کے پاس بھیجا جائے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پیر چناسی روڈ پر حادثہ: کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے 6 افراد زخمی

ساتھ ہی عدالت سے یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ جب تک اس آئینی درخواست کا فیصلہ نہیں ہو جاتا اس وقت تک صدر آزاد کشمیر کے انتخابات کو روکنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔

رِٹ پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست گزار کشمیر کونسل کا منتخب رکن ہے اور مجوزہ انتخابی عمل اس کے آئینی حقِ رائے دہی کو متاثر کرتا ہے، اس لیے اس نے انصاف کے حصول کے لیے عدالت عالیہ سے رجوع کیا ہے۔ درخواست کے ساتھ تیرہویں آئینی ترمیم سے متعلق نوٹیفکیشنز، بل اور دیگر دستاویزات بطور شواہد بھی منسلک کی گئی ہیں۔

قانونی حلقوں کے مطابق یہ رِٹ پٹیشن آزاد کشمیر کے آئینی ڈھانچے اور صدر ریاست کے انتخابی نظام سے متعلق ایک اہم قانونی سوال کو عدالت کے سامنے لے آئی ہے اور اس کے ممکنہ اثرات آئندہ صدارتی انتخاب اور آئینی تشریح دونوں پر پڑ سکتے ہیں۔

Scroll to Top