مظفرآباد: آزاد کشمیر ہائیکورٹ مظفرآباد میں صدر ریاست کے انتخاب کے طریقہ کار اور آئین عبوری 1974 میں کی گئی تیرہویں آئینی ترمیم کے بعض پہلوؤں کیخلاف اہم رِٹ پٹیشن دائر کر دی گئی ہے جس سے صدارتی انتخابات التوا ء کا شکار ہونے کا خدشہ پید اہوگیا ہے۔
یہ درخواست ممبر آزاد کشمیر کونسل محمد حنیف ملک نے اپنے وکلا راجہ امیر شریف ایڈووکیٹ ہائی کورٹ، راجہ سجاد احمد خان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، راجہ قاسم سجاد ایڈووکیٹ ہائی کورٹ اور محمد فیصل فاروق ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کے ذریعے عدالت عالیہ میں جمع کروائی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ریاست کے انتخاب کا شیڈول کیوں جاری نہ ہوسکا؟سوالات اٹھنے لگے
درخواست گزار نے اپنی آئینی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ آئین عبوری آزاد جموں و کشمیر 1974 میں تیرہویں آئینی ترمیم کے ذریعے صدر ریاست کے انتخاب کے طریقہ کار میں جو تبدیلیاں کی گئیں وہ آئین کے بنیادی ڈھانچے اور قانونی تقاضوں کے منافی ہیں۔
رٹ پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ تیرہویں ترمیم سے قبل صدر آزاد کشمیر کا انتخاب ایک مشترکہ انتخابی کالج کے ذریعے ہوتا تھا جس میں قانون ساز اسمبلی، کشمیر کونسل کے منتخب ارکان اور کونسل سیکرٹریٹ کے وفاقی وزیر شامل ہوتے تھے تاہم بعد ازاں کی گئی ترمیم کے ذریعے اس نظام کو تبدیل کر کے انتخابی عمل کو صرف قانون ساز اسمبلی تک محدود کر دیا گیا جس کے نتیجے میں کشمیر کونسل کے ارکان سے ووٹ کا حق واپس لے لیا گیا۔
درخواست میں یہ بھی موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین میں اس نوعیت کی ترمیم کے لیے درکار قانونی طریقہ کار اور قواعد کی مکمل پابندی نہیں کی گئی اور بعض ترامیم وفاقی کابینہ کی منظوری کے بغیر شامل کی گئیںجس کے باعث یہ اقدامات آئین کے بنیادی ڈھانچے اور درخواست گزار کے بنیادی حقوق سے متصادم قرار پاتے ہیں۔
درخواست گزار کے مطابق چونکہ کشمیر کونسل کا ادارہ اب بھی آئین میں موجود ہے اور اس کے ارکان آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں، اس لیے ان سے ووٹ کا حق واپس لینا غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہائیکورٹ آزادکشمیر: یونیورسٹی آف پونچھ کے فیکلٹی ممبران کی تقرریاں کالعدم قرار
رِٹ پٹیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیراعظم پاکستان بطور چیئرمین کشمیر کونسل نے 2018 میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی تھی جس کا مقصد تیرہویں آئینی ترمیم کے قانونی اور آئینی اثرات کا جائزہ لینا تھا تاہم یہ کمیٹی تاحال اپنی رپورٹ پیش نہیں کر سکی۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ مذکورہ کمیٹی کو اپنی سفارشات جلد مکمل کر کے پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔
درخواست میں عدالت عالیہ سے یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ آئین عبوری 1974 کے آرٹیکل 2 اور 5 میں کی گئی متنازع ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے یا اس معاملے کو دوبارہ غور کے لیے متعلقہ حکام کے پاس بھیجا جائے۔
ساتھ ہی عدالت سے یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ جب تک اس آئینی درخواست کا فیصلہ نہیں ہو جاتا اس وقت تک صدر آزاد کشمیر کے انتخابات کو روکنے کے احکامات جاری کئے جائیں۔
رِٹ پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست گزار کشمیر کونسل کا منتخب رکن ہے اور مجوزہ انتخابی عمل اس کے آئینی حقِ رائے دہی کو متاثر کرتا ہے، اس لیے اس نے انصاف کے حصول کے لیے عدالت عالیہ سے رجوع کیا ہے۔
درخواست کے ساتھ تیرہویں آئینی ترمیم سے متعلق نوٹیفکیشنز، بل اور دیگر دستاویزات بطور شواہد بھی منسلک کی گئی ہیں۔
قانونی حلقوں کے مطابق یہ رِٹ پٹیشن آزاد کشمیر کے آئینی ڈھانچے اور صدر ریاست کے انتخابی نظام سے متعلق ایک اہم قانونی سوال کو عدالت کے سامنے لے آئی ہے اور اس کے ممکنہ اثرات آئندہ صدارتی انتخاب اور آئینی تشریح دونوں پر پڑ سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں ہی 13ویں ترمیم سے کشمیر کونسل کے اختیارات ختم کئے گئے تھے اور تمام اختیارات آزادکشمیر اسمبلی وممبران نے اپنے پاس لے لئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: انتخابی فہرستوں کی تدوین، الیکشن کمیشن کا ترمیم کیلئے محکمہ قانون کو مراسلہ
ممبر کشمیر کونسل محمد حنیف ملک مسلم لیگ(ن) ونگ آزادکشمیر کے سابق چیئرمین رہ چکے اور ان کا شمار مسلم لیگ(ن) کے بانی رہنمائوں میں ہوتا ہے۔ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا یہ رٹ قیادت کی مشاورت سے دائر کی گئی ہے یا نہیں کیونکہ مسلم لیگ(ن) کے رہنما وسابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر13ویں آئینی ترمیم کو اپنی بڑی کامیابی قرار دیتے ہیں۔
صدر آزادکشمیر بیرسٹر سلطان محمود کا انتقال ہونے کے بعد ایک ماہ سے زائد عرصی گزر چکا ہے اور ابھی تک شیڈول جاری نہیں ہوسکا، موجودہ رٹ پٹیشن پر انتخاب مزید التوا ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔




