تیل

ایران پر حملوں کے بعد تیل قیمتیں بے قابو ہو گئیں ، بڑا اضافہ

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ ایران پر حملے اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے ۔

حالیہ رپورٹس کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 84 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے ۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کے بعد دنیا بھر میں تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس سے توانائی کی عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے ۔

چین نے اپنی توانائی کی ضروریات کو یقینی بنانے کیلئے بڑے اقدامات کیے ہیں اور ملکی ریفائنریز کو ہدایت دی ہے کہ وہ ڈیزل اور پیٹرول کی برآمدات روک دیں تاکہ اندرون ملک ایندھن کی فراہمی متاثر نہ ہو۔

مزید یہ بھی پڑھیں:عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ

اسی طرح جاپان، انڈونیشیا اور بھارت جیسے ممالک نے بھی ریفائنریز کی پیداوار کم کر دی اور بعض جگہوں پر ایندھن کی برآمدات عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی اور آبنائے ہرمز طویل عرصے تک بند رہی، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر کی معیشتوں کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں نہ صرف ایندھن بلکہ ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبوں پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہیں ، جس سے مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ ہوگا۔

اقوام متحدہ نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کیلئے فوری اقدامات کریں اور خطے میں استحکام برقرار رکھیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کتنا مہنگا ہو سکتاہے؟

عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ صورتحال میں خطے میں سیاسی اور اقتصادی استحکام کو یقینی بنانا عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے تاکہ عالمی معیشت پر منفی اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے ۔

Scroll to Top