سیمینار

جامعہ کشمیر کے انتظامی ومالی مسائل سنگین ہونے پر 5رکنی کمیٹی قائم

اسلام آباد: آزادکشمیر حکومت نے یونیورسٹی آف آزادکشمیر(جامعہ کشمیر) کے انتظامی ومالی مسائل سنگین ہونے پر5رکنی کمیٹی قائم کردی ہے جو اہم تحقیقات کرکے تبدیلیوں کیلئے رپورٹ پیش کریگی۔

محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق قائم مقام صدر آزاد جموں و کشمیر نےیونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر مظفرآباد کے مالی اور انتظامی مسائل کے حل کیلئے موزوں/قابل عمل اور پائیدار سفارشات تیاری کے لیے کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دیدی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جامعہ کشمیر میں مالی بحران کی بڑی وجہ کرپشن،زائد بھرتیاں ہیں، چوہدری انوارالحق کا انکشاف

کمیٹی کی سربراہی سیکرٹری صدارتی امور کرینگے، سیکرٹری محکمہ ہائر ایجوکیشن ،وائس چانسلر یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر،ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ (بجٹ) اوررجسٹرار یونیورسٹی آف آزاد کشمیرکو بطور ممبرشامل کیا گیا ہے۔

جاری نوٹیفکیشن کے ٹی او آرز کے مطابق کمیٹی یونیورسٹی کے لیے تنخواہ، الاؤنسز اور کنٹری بیوٹری پنشن اسکیم کو اپنانے سے متعلق معاملات کیلئے قابل عمل تجویز تیار کریگی۔

کمیٹی ضرورت کے پیش نظر پنشن کی ذمہ داری کو کم کرنے کے لیے پروفیسرز کی عمر کی بالائی حد کے لیے ضروری ترامیم بھی تجویز کریگی۔

کمیٹی یونیورسٹی کو درپیش مالی مسائل حل کرنے کے لیے یونیورسٹی کے عملے کو حقوق دینے اور اگلے پانچ سالوں میں مستقل ملازمت پر مکمل پابندی کی تجویزپر بھی غور کریگی۔

یہ بھی پڑھیں: جامعہ کشمیر شدید مالی بحران کا شکار، تعلیمی امور متاثر ہونے کا خدشہ

کمیٹی جہاں ضرورت ہو وہاں نئی فیکلٹیز قائم کرنے اور پہلے سے موجود فیکلٹیز اور اسی نوعیت کے ڈگری پروگراموں کے انضمام کی ممکنہ منظوری کی تجویزپر بھی غور کریگی۔

کمیٹی یونیورسٹی ایکٹ ، الگ الگ قابل عمل انتظامی اور اساتذہ کیڈر بھی تجویز کریگی۔

یاد رہے کہ جامعہ کشمیر انتظامیہ کی جانب سے فیسوں میں اضافے کے باوجود مالی بحران قابو میں نہیں آرہا ہے اور حکومت اب تبدیلیاں چاہتی ہے۔

Scroll to Top