امریکی ایوان نمائندگان میں صدر ٹرمپ کے جنگی اختیارات بارے قراردادپیش

واشنگٹن(کشمیر ڈیجیٹل)امریکی ایوان نمائندگان میں ایران کے ساتھ جاری جنگ کے معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کے لیے وار پاورز قرارداد پر آج ووٹنگ متوقع ہے۔

قرارداد کا مقصد صدر ٹرمپ کو پابند کرنا ہے کہ وہ ایران کیخلاف جنگ جاری رکھنے سے پہلے کانگریس سے باقاعدہ اجازت حاصل کریں۔

ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رہنما نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ بادشاہ نہیں ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ہائیکورٹ آزادکشمیر: یونیورسٹی آف پونچھ کے فیکلٹی ممبران کی تقرریاں کالعدم قرار

اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ امریکا کے قومی مفاد میں ہے تو انہیں کانگریس میں آ کر اس کا جواز پیش کرنا ہوگا۔

ریپبلکن رہنما ایران جنگ اور ممکنہ دہشتگردی کے خدشے کے باعث محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی فنڈنگ کیلئے بھی ووٹنگ کرانا چاہتے ہیں۔

اسپیکر ایوان نمائندگان مائیک جانسن کا کہنا ہے کہ ایران میں جاری فوجی کارروائیوں کے باعث محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کو مکمل فنڈنگ اور عملہ فراہم کرنا پہلے سے زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر سمیت ملک بھر میں کنگ سلمان ریلیف سینٹر کی امدادی مہم مکمل

خیال رہے کہ امریکی آئین کے مطابق جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف کانگریس کو حاصل ہے اور صدر کو جنگ سے پہلے کانگریس کی اجازت لینا بے حد ضروری ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی سینیٹ میں اسی نوعیت کی قرارداد پارٹی بنیادوں پر ووٹنگ کے باعث مسترد ہو گئی تھی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سونے کی قیمتیں مسلسل گرنے لگیں، آج مزید سستا ہو گیا!

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ایوانِ نمائندگان میں اس قرارداد پر ووٹنگ کیلئے حق اور مخالفت میں پڑنے والے ووٹوں کی تعداد میں زیادہ فرق نہیں ہوگا۔

اسی دوران امریکی محکمہ دفاع نے حالیہ ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے دو مزید فوجیوں کے نام بھی جاری کئے ہیں جن کی شناخت چیف وارنٹ آفیسر رابرٹ مارزن اور میجر جیفری اوبرائن کے طور پر کی گئی ہے۔

امریکہ میں سیاسی محاذ پر ایک اور پیش رفت میں ریپبلکن سینیٹر نے اچانک اپنی تیسری مدت کے لیے انتخاب لڑنے کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما ورجینیا میں انتخابی حلقہ بندیوں کی نئی مہم کی حمایت کر رہے ہیں جو رواں سال کے وسط مدتی انتخابات سے قبل اہم سیاسی معاملہ بن چکی ہے۔

Scroll to Top