چین کا مشرقِ وسطیٰ میں اپنا خصوصی نمائندہ بھیجنے کا اعلان

بیجنگ نے ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ختم کرنے اور خطے میں امن قائم کرنے کے لیے اپنا خصوصی نمائندہ مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بحرِ ہند میں امریکی حملے کے نتیجے میں ایرانی بحری جہاز تباہ ہو چکا ہے اور صورتحال انتہائی نازک ہو چکی ہے۔

چین کی سفارتی کوششیں اور ثالثی کا اعلان:

چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای نے خطے کی تازہ صورتحال پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔ گفتگو کے دوران وانگ ای نے اعلان کیا کہ چین ثالثی کے لیے اپنا خصوصی نمائندہ مشرقِ وسطیٰ بھیجے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ چین اختلافات کو پُرامن طریقے سے حل کرنے کے سعودی عرب کے مؤقف کو سراہتا ہے۔ چینی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ کسی بھی تنازع میں شہریوں کے تحفظ کی “سرخ لکیر” کو عبور نہیں کیا جانا چاہیے اور انسانی جانوں کا زیاں ہر صورت روکنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: طاقت کا اندھا دھند استعمال ناقابل قبول، ایران کے خلاف فوجی آپریشن فوری روکا جائے: چین

بحری راستوں اور توانائی کے مراکز کی حفاظت:

وانگ ای نے اپنی گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ توانائی کے مراکز اور غیر عسکری اہداف پر کسی قسم کے حملے نہیں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی تجارت کے لیے جہاز رانی کے بحری راستے مکمل طور پر محفوظ ہونے چاہئیں تاکہ عالمی معیشت اور امن متاثر نہ ہو۔ چین کا یہ مؤقف خطے میں استحکام لانے کی ایک بڑی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی آبدوز کا حملہ اور جانی نقصان:

دوسری جانب سری لنکن بندرگاہ کے قریب ایک خوفناک واقعہ پیش آیا جہاں امریکی آبدوز نے ایرانی بحری جہاز کو نشانہ بنایا۔ اس حملے کے نتیجے میں 87 افراد شہید جبکہ 32 زخمی ہو گئے۔ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بحرِ ہند میں ایرانی جنگی جہاز کو امریکی افواج نے اپنی فوجی حکمتِ عملی کے تحت نشانہ بنا کر ڈبو دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی جہاز کو لگتا تھا کہ وہ بین الاقوامی پانیوں میں محفوظ رہے گا، لیکن امریکی کارروائی نے اس تاثر کو ختم کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکی سینیٹ ،ایران پر حملوں کیلئے کانگریس سے منظوری لینےکی قرارداد مسترد

تباہ ہونے والے جہاز ‘آئی آر آئی ایس دینا’ کی تفصیلات:

حادثے کا شکار ہونے والا جہاز ‘آئی آر آئی ایس دینا’ ایران کی بحریہ کے 86 ویں بیڑے کا اہم حصہ تھا اور یہ مکمل طور پر ایرانی ساختہ جنگی جہاز تھا۔ یہ جہاز 2022 سے 2023 کے دوران تقریباً 65 ہزار کلومیٹر کا عالمی بحری سفر مکمل کر چکا تھا اور اسے ایرانی بحری طاقت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ 1500 ٹن وزنی اور 95 میٹر طویل یہ جہاز ‘نور’ اور ‘قدر’ جیسے اینٹی شپ میزائلوں کے علاوہ 76 ایم ایم فجر 27 نیول گن اور 30 ایم ایم کے جدید ہتھیاروں سے لیس تھا۔

Scroll to Top