بحرین میں ایران کے حملوں سے متعلق ویڈیوز شیئر کرنے اور مبینہ طور پر ان سے ہمدردی ظاہر کرنے پر مزید چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
حکام کے مطابق اب تک 8 افراد کو سوشل میڈیا پر ایرانی حمایت یافتہ مواد اپلوڈ کرنے کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی سینیٹ ،ایران پر حملوں کیلئے کانگریس سے منظوری لینےکی قرارداد مسترد
امریکی میڈیا کے مطابق بحرین کی وزارت داخلہ کے مطابق سوشل میڈیا پر ایسے مواد کی اشاعت عوامی رائے کو گمراہ کرنے اور شہریوں و رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیلانے کا سبب بن سکتی ہےجو ملکی سلامتی اور عوامی نظم و ضبط کے لیے نقصان دہ ہے۔
حکام نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کی سرگرمیوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔
یہ گرفتاریاں اس وسیع کریک ڈاؤن کا حصہ ہیں جس میں حکام ایسے مواد کو ایرانی جارحیت کی حمایت قرار دے رہے ہیں۔ سرکاری موقف کے مطابق اس طرح کی پوسٹس قوم سے غداری کے مترادف ہیں۔
اس مواد میں اے آئی سے تیار کردہ تصاویر شامل ہیں جو ملک بھر میں گھروں کو پہنچنے والے نقصان کو ظاہر کرتی ہیں، جو شہریوں اور رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیلانے میں معاون ہیں۔
وزارت نے کہا کہ ضروری قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور گرفتار افراد کو پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران میں 40 روزہ سوگ کا اعلان: آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا آخری پیغام سوشل میڈیا پر جاری
واضح رہے کہ بحرین میں سنی حکومت قائم ہے جبکہ آبادی کی اکثریت شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی ہے، جس کے بعض حلقے شیعہ اکثریتی ملک ایران کے لیے ہمدردی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔




