پاکستان کی مسلح افواج نے بلوچستان میں پاک افغان سرحد کے ساتھ رات گئے تباہ کن جوابی فائرنگ اور حملوں کا آغاز کر دیا ہے تاکہ ٹی ٹی اے کی ان چوکیوں کو نشانہ بنایا جا سکے جو بی ایل اے یا فتنہ الہندوستان کے لیے محفوظ پناہ گاہوں اور حملوں کیلئے استعمال ہو رہی تھیں۔
آپریشن کے تحت وسیع پیمانے پر تادیبی کارروائی کی جا رہے اورفا ہ اور ٹی ٹی اے سے منسلک 55 سے زائد مقامات کو مختلف نوعیت کے ہتھیاروں کے جامع استعمال کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے
یہ بھی پڑھیں: آپریشن غضب للحق :وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے تازہ ترین اعدادوشمار جاری کر دیئے
آپریشن کے دوران پاک فوج کی جانب سے بھاری ہتھیار استعمال کئے جا رہے ہیں جن میں اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل (ATGMs)، راکٹ لانچر، طویل فاصلے تک مار کرنے والے مارٹر، ہلکی اور بھاری توپ خانے، مین بیٹل ٹینک (MBTs)، اور مربوط کارروائی کے لیے سوارم ڈرون شامل ہیں جبکہ چند منتخب مقامات پر زمینی فوج بھی حملہ آور ہے۔
ٹی ٹی اے کی وہ چوکیاںجو فتنہ الہندوستا کی معاونت کر رہی تھیں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے پوسٹوں میں ورسالاسب سیکٹر کی ٹی ٹی اے پوسٹیں 5تا9پر کارروائی کی جا رہی ہے۔
ژوب سیکٹر میں سمبازہ اور گھدوانہ سیکٹرز بشمول بلال پوسٹ،· قلعہ سیف اللہ میں پشین سیکٹر (کالیگئی، بیانزئی اور رحیم تھانے)، لوئے بند سیکٹر (کوچی، رحیم، اعلیٰ جرگہ، تور کچ اور تروکئی تھانے)، بدینی سیکٹر (تھند، جمعہ خان اور زنجیر تھانے) اور او جی جی سیکٹر (کھار، سپین گئی، سرزنگل اور یونس تھانے) شامل ہیں۔
چلتن رینجز میں ششکہ سیکٹر، خارا سیکٹر (تھانہ 1، 2 اور 3) اور ریاض سیکٹر (پاستا اور سرتاشان تھانہ)،· نوشکی میں حمید قلعہ، ثناء اللہ آغا، شینہ خیل، عانی، جانی، ترکشی، ظالمی، سوا لی، غزالی قلعہ اور اوطاق سیکٹرز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی ایک سوچا سمجھا اور غیر متناسب اقدام ہے، جس کا مقصد دہشتگردوں ، ان کے معاونین معاونین اور سہولت کاروں کو فیصلہ کن ضرب لگانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک افغان سرحد پر بلوچستان میں پاکستان کی ’’سخت جوابی کارروائی‘‘ متعدد مقامات پر وسیع فوجی آپریشن
یہ آپریشن اس وقت تک جاری رہیگا جب تک خطرات کو مکمل طور پر ختم کر کےدشمن پر ہیبت بحال نہ کر دی جائے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کا اپنی خودمختاری کے دفاع اور اپنے شہریوں کے تحفظ کا عزم غیر متزلزل ہے۔




